ترکی نے انسٹاگرام پر حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سے متعلق پوسٹ سنسر شپ کے سلسلے کو بلاک کر دیا۔

ترکی نے انسٹاگرام کو بلاک کر دیا تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل کے بعد مشرق وسطیٰ کے حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ دریں اثنا، ترکی نے میٹا کی ملکیت والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جمعہ (2 اگست 2024) کو پابندی لگا دی، جس کے بعد لاکھوں صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ترک ڈیجیٹل انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ریگولیٹری اتھارٹی (BTK) نے اس پابندی کا اعلان کیا۔
انسٹاگرام پر ترکی کا الزام
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک اس بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں کہ یہ پابندی کب تک برقرار رہے گی۔ اس سے قبل ترک حکومت کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر فرحتین التون نے الزام لگایا تھا کہ انسٹاگرام ترک عوام کو حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کے تعزیتی پیغامات پوسٹ کرنے سے روکتا ہے۔ ایک ترک عہدیدار نے کہا کہ ہم ایسے پلیٹ فارمز کے خلاف اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ کریں گے۔
50 ملین سے زیادہ صارفین متاثر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ترکی میں انسٹاگرام کی پابندی سے 50 ملین سے زائد صارفین متاثر ہوئے ہیں۔ فرحتین التون نے کہا کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہر پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں گے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے بلکہ ترکی میں سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کو سنسر کرنے کی تاریخ ہے۔ فریڈم آف ایکسپریشن ایسوسی ایشن کی اطلاع ہے کہ 2022 سے اب تک یہاں لاکھوں ڈومینز بلاک کر دیے گئے ہیں۔ ترکی میں انسٹاگرام پر پابندی کے بعد میٹا کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ترکی نے حماس رہنما ہانیہ کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شہید قرار دیا تھا۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ہانیہ کی طرح ہزاروں افراد کو اپنے وطن میں رہنے کے لیے شہید کیا گیا۔ ترکی نے کہا تھا کہ اگر عالمی برادری نے اسرائیل کو روکنے کے لیے کارروائی نہ کی تو اسے ایک بڑی جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترکی نے ہانیہ کی موت پر ایک دن کے سوگ کے لیے اپنا پرچم نصف سر پر لہرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسماعیل ہنیہ کی موت: حماس کے سربراہ کے قتل میں اسرائیل نے ایران کی سرزمین کا انتخاب کیوں کیا؟ سمجھیں کہ ترکی اسماعیل ہانیہ کے لیے کیوں محفوظ ہے۔




