روس نے جیل میں بند امریکی رپورٹر ایون گرشکووچ پال وہیلان ترکئی کو رہا کر دیا۔

روس نے قید امریکی رپورٹر کو رہا کر دیا روس نے جمعرات (01 اگست) کو جیل میں بند امریکی صحافیوں اور دیگر کو رہا کر دیا ہے، جس کے بارے میں معلومات ترکی نے دی تھیں۔ خبر کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹرز ایوان گرشکووچ، پال وہیلن اور دیگر قیدیوں کو تبادلے کے حصے کے طور پر رہا کیا گیا۔ تاہم امریکی حکام نے صحافیوں اور دیگر کی رہائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ترک حکومت کے مطابق سرد جنگ کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان قیدیوں کا یہ سب سے بڑا تبادلہ ہے۔ ترک صدارتی دفتر نے کہا کہ امریکہ، جرمنی، پولینڈ، سلووینیا، ناروے، بیلاروس اور روس کے دو نابالغوں سمیت کل 26 افراد اس تبادلے میں شامل تھے۔ کریملن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔
امریکہ نے انکار کر دیا۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکی حکام نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا تاہم یہ خبر امریکی ٹیلی ویژن پر بڑے پیمانے پر دکھائی گئی۔ مارچ 2023 میں وال اسٹریٹ جرنل کے رپورٹر ایوان گرشکووچ کو روس نے حراست میں لے لیا۔ ایوان گیرشکووچ کو جولائی میں فاسٹ ٹریک ٹرائل میں جاسوسی کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
کس کو روس واپس کیا گیا؟
ایوان گیرشکووچ کی گرفتاری اور جاسوسی کے الزام میں اس کی سزا کو امریکہ نے دھوکہ دہی کے طور پر مسترد کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق روس کے وادیم کاسیکوف کو بھی قیدیوں کے تبادلے کے حصے کے طور پر واپس کر دیا گیا۔ Vadim Kasikov ایک روسی شہری ہے جو جرمنی میں قید تھا۔ وادیم پر سابق چیچن باغی کمانڈر کے قتل کا الزام تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ حال ہی میں گزشتہ تبادلے کے معاہدے میں استعمال ہونے والے کیلینن گراڈ طیارے کو روسی ایکسکلیو میں دیکھا گیا تھا۔ طیارہ نظر آنے کے بعد ہی قیدیوں کی رہائی کی خبریں زور پکڑنے لگیں۔ حال ہی میں طویل سزا کاٹ رہے قیدیوں کو بھی ان جیلوں سے منتقل کیا گیا جہاں انہیں رکھا گیا تھا۔ شفٹنگ کے دوران قیاس آرائیاں کی گئیں کہ انہیں تبادلہ کے تحت لینے کا کام کیا جا رہا ہے۔



