سڑکوں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے کے لیے ترکی میں نیا قانون متعارف کرایا گیا ناقدین نے اسے قتل عام کا قانون قرار دیا

ترکی: ترکی میں منگل (30 جولائی) کو ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا۔ اس قانون کے تحت لاکھوں آوارہ کتوں کو سڑکوں سے ہٹا دیا جائے گا۔ تاہم جانوروں کی فلاح و بہبود کے کارکنوں نے حکومت کے اس قدم پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور وہ حکومت کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔
اینیمل ویلفیئر کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس قدم سے کتوں کے بڑے پیمانے پر قتل کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ‘دی ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی نے رات بھر جاری رہنے والے اجلاس کے بعد یہ بل منظور کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ترک حکومت نے گرمیوں کی تعطیلات سے قبل اس قانون کے حوالے سے دیگر فریقوں پر دباؤ ڈالا تھا۔
یہ حکم دیا
ترک حکومت نے بلدیات کو حکم جاری کر دیا ہے۔ اس حکم نامے میں کہا گیا کہ سڑکوں سے آوارہ کتوں کو اٹھانے، انہیں پناہ گاہوں میں رکھنے اور کسی اور کو گود لینے سے پہلے ویکسینیشن سمیت دیگر تمام ضروری کاموں کو یقینی بنایا جائے۔ جانوروں کی فلاح و بہبود کے کارکنوں کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ اس قانون کے تحت جن کتوں کی حالت خراب ہے، یعنی جن کی صحت ٹھیک نہیں ہے، انہیں مار دیا جائے گا۔
‘نسل کشی کا قانون’ کس نے کہا؟
ترک حکومت کے نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے کئی کتے مرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ‘دی ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق اس قانون کی مخالفت کرنے والے لوگوں نے اسے ‘قتل عام کا قانون’ قرار دیا ہے۔ اس قانون کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے حکومت پر دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔
یہ خوف ناقدین کو ستاتا رہتا ہے۔
بہت سے ناقدین نے نئے قانون کے معاملے پر حکومت کو گھیر لیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ قانون بلدیاتی انتخابات میں سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قانون پر عمل نہ کرنے والے میئرز کو سزا دی جائے گی۔ ترکی میں بھی کئی مقامات پر مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ: حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے ایرانی صدر کی حلف برداری میں شرکت کی، آخری تصاویر منظر عام پر آگئیں۔



