اسماعیل ہانیہ کو ایران میں کیسے اور کس وقت قتل کیا گیا، سارا راز فاش ہوگیا۔

تہران کے ایک ہائی سیکیورٹی ایریا میں اس قتل کے بعد ایران کے سیکیورٹی اداروں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سے تقریباً 2000 کلومیٹر دور تہران پر یہ حملہ کیسے کیا گیا؟
یہ حملہ رات 2 بجے کیا گیا۔ /strong>
ایران کے باہر سے حملہ؟
حزب اللہ لبنان کی حامی المیادین نیوز ویب سائٹ نے ایک ایرانی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ھنیہ کو مارنے کے لیے استعمال ہونے والا میزائل کسی دوسرے ملک سے داغا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میزائل ایران کے اندر سے فائر نہیں کیا گیا۔
ایران اور حماس اسرائیل سے ناراض
اگرچہ اسماعیل کے قتل پر اسرائیل نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، ایران اور حماس نے اس حملے کا براہ راست ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔ ایران نے کہا، ہانیہ کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہانیہ کے خون کی ہر دھمکی کا حساب لیا جائے گا۔ اب فلسطین اور تہران کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ دوسری جانب حماس اور ہیٹی نے بھی ایران سے بدلہ لینے کی بات کی ہے۔
امریکہ اسرائیل کی حمایت میں آگیا
دوسری جانب اسرائیل کو لاحق خطرات کے درمیان امریکا تل ابیب کی حمایت میں آگیا۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔




