کیا حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی موت کے بعد بنجمن نیتن یاہو دوبارہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیں گے؟

اسماعیل ہنیہ کی وفات: اسرائیل کے سب سے بڑے دشمن اور دنیا کی خطرناک ترین دہشت گرد تنظیموں میں سے ایک حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران میں گھس کر اسماعیل ہانیہ کو قتل کر دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسماعیل ہانیہ کو قتل کر کے بینجمن نیتن یاہو اپنے ہی ملک میں اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبائیں گے یا اب وہ ایسا ہو گیا ہے؟ غصے میں کہ وہ اپنی مسجد جمکران پر لال جھنڈا لگا کر بدلہ لینے کے لیے تیار ہے۔
ایران کو حماس کا نیا سربراہ خالد مشعل ملنے جا رہا ہے، جس کی خودکش بمباری کی کہانیاں کسی کو بھی ڈرا سکتی ہیں۔ آخر اسماعیل ھنیہ کی موت سے دنیا میں کیا تبدیلی آئی ہے اور اسرائیل اور فلسطین کے علاوہ تمام عرب ممالک پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟
اسماعیل ہانیہ کے قتل کے بعد کچھ سوالات اٹھ رہے ہیں، جن کے جواب ملنے سے شاید دنیا کی بدلتی ہوئی مساواتیں شیشے کی طرح واضح ہو جائیں گی۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا اسماعیل ہانیہ کی موت کے بعد حماس کمزور ہو جائے گی اور وہ اسرائیل کے خلاف جنگ ہار جائے گی۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ایران اسماعیل ھنیہ کے قتل کو اپنی خودمختاری پر حملے کے طور پر دیکھ رہا ہے اور وہ اس کا بدلہ لے گا۔
تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا اسماعیل ہانیہ کے قتل کے بعد بنجمن نیتن یاہو اپنے ملک میں اتنی ہمدردیاں حاصل کر سکیں گے کہ وہ اپنی کرسی بچا کر وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہو سکیں۔ آئیے ایک ایک کرکے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا ہانیہ کی موت کے بعد حماس کمزور ہو جائے گی؟
اسماعیل ہانیہ کی موت کے بعد بھی حماس جیسی دہشت گرد تنظیم پر زیادہ فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ اس لیے کہ حماس کے نئے سربراہ کے طور پر جو نام سامنے آیا ہے وہ اسماعیل ہانیہ سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا نام خالد مشعل ہے۔ خالد مشعل خود کش بمباری کا ماہر ہے۔ 1987 میں حماس کے قیام کے بعد 1994 میں اسی خالد مشعل نے حماس کے جنگجوؤں کو خودکش بمباری کی تربیت دی جس کے بعد اسرائیل میں کئی مقامات پر بم دھماکے ہوئے۔
یہ وہی خالد مشعل ہیں جو 1996 سے 2017 تک حماس کے سربراہ تھے۔ 2017 میں جب انہوں نے عہدہ چھوڑا تو اسماعیل ہانیہ نے ان کی جگہ لی لیکن اب ان کے قتل کے بعد خالد مشعل دوبارہ حماس کے سربراہ بننے جا رہے ہیں اور ان کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ فلسطین میں نہیں رہتے۔ وہ یا تو قطر میں رہتا ہے یا مصر میں۔ اسماعیل ہانیہ سے پہلے جب خالد مشعل حماس کے سربراہ تھے، اسرائیل نے انہیں بھی قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔
1997 میں انہیں اردن کے دارالحکومت عمان میں زہر کا انجکشن دیا گیا لیکن وہ بچ گئے۔ خالد مشعل پر اس حملے کی وجہ سے ایک زمانے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اردن بھی اسرائیل کا دشمن بن جائے گا لیکن جب خالد مشعل بچ گئے تو دونوں ممالک کے تعلقات بھی بہتر ہو گئے۔
ایسے میں اسماعیل ھنیہ کی ہلاکت کے بعد خالد مشعل کا حماس کا سربراہ بننے سے حماس کے حملے کے طریقے بدل جائیں گے اور پھر اسرائیل کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھیں گی۔ باقی حملوں کی ذمہ داری حماس کے عسکری ونگ عزالدین القاسم بریگیڈ پر عائد ہوتی ہے اور اس کے رہنما محمد دیف ہیں، جو مسلسل حملے کر رہے ہیں۔
کیا ایران اسماعیل ہانیہ کی موت کا بدلہ لے گا؟
اسماعیل ھنیہ نہ صرف حماس کے سربراہ تھے بلکہ وہ ایران کے سرکاری مہمان بھی تھے۔ اسماعیل ہانیہ ایران کے نو منتخب صدر مسعود پجشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران گئے تھے۔ اس دورے کے دوران ایران کے نئے صدر کے علاوہ ہانیہ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے بھی ملاقات کی۔ اس کے بعد ہی اسرائیل نے تہران میں داخل ہو کر اسماعیل ہانیہ کو قتل کر دیا اور ایران نے اسے اپنے ملک پر حملے کے طور پر دیکھا۔
اگر ایران جنگ شروع کرنا چاہتا ہے یا جنگ کی دھمکی دینا چاہتا ہے تو وہ اپنی مسجد جمکران پر سرخ پرچم لہرا کر اس کا اعلان کرتا ہے۔ اب ایران نے وہ جھنڈا جمکران مسجد پر لہرا دیا ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب اسلامی کو اسماعیل ہانیہ کے قتل کا بدلہ لینے کا حکم دیا ہے۔ خود آیت اللہ خامنہ ای نے جلوس جنازہ کی قیادت کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ کی تدفین کے بعد اعلان کیا ہے کہ اب ایران براہ راست اسرائیل پر حملہ کرے گا اور اسماعیل ھنیہ کے قتل کا بدلہ لے گا۔
کیا بنجمن نیتن یاہو اپنی کرسی بچا سکیں گے؟
اس سوال کا جواب ہاں یا ناں میں نہیں دیا جا سکتا۔ اسماعیل ہانیہ کے قتل کے بعد اس جنگ کو روکنے کے لیے جو بھی کوششیں کی گئیں وہ ناکام رہیں۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی قیادت حماس کی جانب سے اسماعیل ہانیہ کر رہے تھے لیکن ان کے قتل کے بعد اس پورے عمل کو نئے سرے سے شروع کرنا ہو گا۔ اگر ایران مشتعل ہے تو یہ اسرائیل کے لیے ایک نیا خطرہ ہے۔
حزب اللہ لبنان میں دشمن ہے۔ باقی حماس نے تقریباً اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے، جس کا نام خالد مشعل ہے اور جو بمباری کا ماہر ہے۔ لہٰذا ایسا ہر گز نہیں ہے کہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کے بعد نیتن یاہو ڈھیل ہیں۔ کیونکہ اگرچہ امریکہ نے کہا ہے کہ اگر حماس یا ایران جوابی کارروائی کرتے ہیں تو وہ اسرائیل کا ساتھ دے گا لیکن اسماعیل ہانیہ کے قتل سے امریکہ کو بھی صدمہ پہنچا ہے۔ کیونکہ امریکہ بھی چاہتا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ ختم ہو۔
اس قتل کے بعد بھی نیتن یاہو کو اپنے ملک میں کچھ ہمدردی مل سکتی ہے لیکن نیتن یاہو نے جس طرح ایک بار پھر جنگ کی دھمکی دی ہے اور اس بار انہوں نے یہ دھمکی ایران کو دی ہے۔ جس کی وجہ سے اسرائیل کا ایک طبقہ پھر سے یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ نیتن یاہو نے اپنی ہٹ دھرمی سے پورے ملک کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے۔
اس جنگ میں کون کون سے دوسرے ممالک شریک ہوں گے؟
یہ وہ سوال ہے جس نے پوری دنیا کی مساوات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب تک اس جنگ میں ایک طرف اسرائیل تھا اور دوسری طرف حماس۔ حماس کو براہ راست لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کی مدد حاصل تھی اور ایران باہر سے مدد کر رہا تھا۔
اب اگر ایران اسرائیل کے خلاف براہ راست جنگ کرتا ہے تو امریکہ بھی اسرائیل کا ساتھ دے گا۔ اگر اس جنگ میں امریکہ کی براہ راست انٹری ہوتی ہے تو چین بھی پیچھے نہیں رہے گا کیونکہ حال ہی میں چین نے فلسطین کے دو اہم گروپ حماس اور الفتح کے درمیان معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں اگر جنگ ہوئی تو چین سے ملحقہ ممالک چین کے ساتھ ہوں گے جن میں روس اور شمالی کوریا بھی شامل ہو سکتے ہیں، دوسری طرف پوری نیٹو فورس امریکہ کے ساتھ آ جائے گی، لیکن یہ ابھی دور کی بات ہے۔ .
یہ بھی پڑھیں: اسماعیل ہنیہ کی موت: کیا اس شخص کے پاس حماس کے سربراہ پر حملے سے قبل مکمل معلومات تھیں؟ ماہر نے خبردار کیا تھا۔




