خیبرپختونخوا میں پاک فوج کے آپریشن ازم استحکام کی مخالفت، قبائلی رہنماؤں کی حکومت کو وارننگ

پاک فوج کا آپریشن: پشتون قبائل نے خیبرپختونخوا (کے پی) میں پاکستانی فوج کے بڑے آپریشن کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی فوج نے ‘عظیم استحکام’ کے ذریعے علاقائی عوام کو ہراساں کیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ قبائلیوں کا کہنا تھا کہ اگر اس آپریشن کے ذریعے مدارس اور گھروں پر چھاپے مارے گئے تو نتیجہ غلط نکلے گا اور لوگوں میں غصہ بڑھے گا۔ اس معاملے کے حوالے سے صوبے کے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ پر ایک بڑا اجلاس بلایا گیا جس کا نام ’جرگہ‘ رکھا گیا۔
درحقیقت پاکستان کی فوج ’اعظم استحکم‘ آپریشن کے ذریعے ملک کے شدت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی کوشش کر رہی ہے، کیونکہ ریاست میں پاکستانی حکومت کی مخالفت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایسی صورت حال میں پاکستانی فوج صوبے میں شدت پسند رہنماؤں کے مدرسوں اور گھروں پر چھاپہ مار سکتی ہے۔ ان مسائل کے حوالے سے پشتون قبائلی رہنماؤں اور ریاستی حکومت کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔
طالبان دہشت گردوں کو ختم کرنے کا مطالبہ
پاکستان ٹرائب نیوز کے مطابق قبائلی رہنماؤں نے جرگے میں 11 نکاتی مطالبات پیش کیے ہیں۔ اجلاس میں آپریشن ’اعظم استحکام‘ کی مخالفت بھی کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان اچھے طالبان اور برے طالبان دونوں کو ختم کرے گی۔ دراصل پاکستان میں ان طالبان دہشت گردوں کو گڈ طالبان کہا جاتا ہے جن کے پاک فوج کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
مدارس اور گھروں کی تلاشی کی مخالفت
پاکستان ایکسپریس نیوز کے مطابق اس اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کی۔ جرگے میں کے پی کے چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، بنوں کمشنر اور ریجنل پولیس افسران، ڈپٹی کمشنر نے شرکت کی۔ جرگہ میں قبائلی رہنماؤں نے وزیراعلیٰ کے سامنے 11 نکاتی مطالبات رکھے۔ اس دوران کہا گیا کہ سرچ آپریشن کے دوران مدارس، گھروں اور افراد کے ساتھ کوئی نامناسب رویہ نہ برتا جائے۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی انتظامیہ کو علاقے میں طالبان سے نمٹنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔ اس کے علاوہ محکمہ انسداد دہشت گردی کو مکمل طور پر فعال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
پاکستانی فوج کا بیان
پشتون قبائل کے مطالبات کے اثرات اب پاکستان میں بھی نظر آرہے ہیں۔ پیر کے روز پاکستانی فوج کے میڈیا نے کہا کہ آپریشن اعظم استحکام کوئی فوجی آپریشن نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی کا پروگرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک مضبوط لابی ہے جو نیشنل ایکشن پلان کو کامیاب نہیں ہونے دے رہی۔ اس دوران فوجی افسر نے کہا کہ یہ مہم پچھلی مہموں سے مختلف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نیپال کشیدگی: چین کے حامی اولی کا بھارتی علاقوں پر دعویٰ، اس بیان نے تنازع بڑھا دیا




