مسلمانوں نے کھلے اسٹیج پر جہیز کا بائیکاٹ کیا، سیکڑوں افراد نے آسان شادی کا عہد لیا۔

جبل پور مسلم کمیونٹی کی تاریخ میں پہلی بار ایک کھلے فورم پر بڑے پیمانے پر جہیز کو غیر اسلامی، انسانیت کے خلاف اور بہنوں اور بیٹیوں کا قاتل قرار دیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ہم جہیز کا بھرپور بائیکاٹ کریں گے۔ شادی کو آسان بنائیں گے۔ شادیوں کے معاملے میں جبل پور پورے جبل پور شہر اور مدھیہ پردیش کے مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔

جماعت اسلامی جبل پور سنٹرل کی 40 ویں روزہ آسان نکاح مہم اتوار کی رات مومن پورہ تلائیہ میں عشرہ عام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ جہاں معاشرے کے تمام مذہبی رہنما اورسماجی رہنما موجود تھے۔
یہاں علمائے کرام نے نکاح کے اسلامی طریقہ پر تقریر کی ۔ تمام علمائے کرام نے ایک آواز میں کہا کہ جہیز حرام ہے، شادی بیاہ میں برات غیر اسلامی ہے، نکاح مسجد میں ہونا چاہیے۔

بھوپال سے مولانا محمد عمر، محمد امتیاز، مولانا عارف اصلاحی، کونسلر وکیل انصاری، جماعت اسلامی کے ذمہ داران غلام رسول، جمیل احمد، جان محمد اور دیگر نے اسٹیج کو سنبھالا۔ نظامت کی ذمہ داری غلام صابر صاحب نے ادا کی۔ تقریب میں 1000 سے زائد افراد موجود تھے۔ جنہوں نے آسان شادی کی اس مہم کو سراہا اور وعدہ کیا کہ وہ اس مہم کے پیغام کو اپنا کر آگے بڑھائیں گے۔
جہیز کا بائیکاٹ کریں: محمد عمر
مولانا محمد عمر صاحب نے کہا .. دو چیزیں ایسی ہیں جو شادی کو مشکل بناتی ہیں، پہلی جہیز اور دوسری شادی کی بارات۔ یہ دونوں چیزیں غیر اسلامی ہیں، بدعت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ فرمایا تھا کہ دین میں کوئی نئی چیز پیدا کرنا بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور تمہیں جہنم میں لے جائے گی۔
مولانا نے فرمایا کہ جہیز اوربارات شادی کو مہنگا اور مسائل پیدا کرتے ہیں۔ یہ دونوں غیر اسلامی ہیں۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر ہم انہیں چھوڑ تو باقی تمام برائیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

مولانا عمر صاحب نے مزید کہا کہ جہیز کا خاتمہ ہو جائے تو رشتوں کی تلاش کا معیار بدل جائے گا۔ رشتوں کی تلاش میں تقویٰ، آداب اور شائستگی کو ترجیح دی جائے گی۔ جس کی وجہ سے لوگ غریبوں کی بیٹیوں کو بھی ترجیح دیں گے۔ آج غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کی زندگی کی بچت لڑکیوں کی شادی پر خرچ ہو رہی ہے۔ اس کے بعد بچت کاروبار، مکان وغیرہ پر خرچ ہو جائے گا۔ جس سے معاشرے میں ہمہ گیر خوشحالی آئے گی۔
لہٰذا، ’’ہمیں جہیز کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے ۔
شہر کی مثال قائم کریں: محمد امتیاز
محمد امتیاز صاحب نے کہا۔ آج ہمارے ملک میں ہر گھنٹے میں 25 سے 30 بہنیں جہیز کی لعنت سے مر رہی ہیں۔ لاکھوں بہنیں اس لعنت کا شکار ہو کر شادی سے محروم رہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر نکاح کریں۔ شادی کو آسان بنائیں۔ اس سے مسلم معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے معاشرے بھی مسلم معاشرے سے سیکھیں گے اور اسلام کے قریب آئیں گے۔ مسلم معاشرے کے اثر کی وجہ سے دوسرے معاشروں میں شادیاں آسان ہو جائیں گی۔

رضائے الٰہی کو ترجیح دیں معاشرے کو نہیں: مولانا عارف
مولانا عارف اصلاحی نے کہا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جہیز، بارات وغیرہ غیر اسلامی چیزیں ہیں۔ پھر وہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ماں نہیں مان رہی، باپ نہیں مان رہا، بہنوں کی خواہشیں ہیں، معاشرے میں لوگ کیا سوچیں گے۔
مولانا نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارا رب کون ہے۔ اگر ہمارا رب اللہ ہے تو ہم اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے۔ اللہ کو ترجیح دیں نہ کہ اپنے گھر کے معاشرے کی رائے کو۔ جب آپ مضبوط ہوں گے تو ہمارا معاشرہ مضبوط ہوگا۔ ہماری دنیا اور آخرت دونوں کامیاب ہوں گے۔
یہ مہم انقلاب کی شکل اختیار کرے گی: وقار احمد

جماعت اسلامی کے مرکزییونٹ صدر وقار احمد نے کہا ہماری 40 روزہ مہم کا بنیادی پیغام شادی کو آسان بنانا تھا جس سے معاشرے میں ہمہ جہت خوشحالی آئے گی۔ یہ مہم معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اب یہاں بیٹھے لوگوں اور خصوصاً نوجوان دوستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں سے اس عہد کے ساتھ اٹھیں کہ ہم قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑیں گے۔ ہم اسلام کے مطابق شادی کریں گے اور کرائیں گے۔ یہاں بیٹھے ہوئے لوگ یہ معاہدہ کر کے اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنائیں۔ تو یہ مہم انقلاب کی شکل اختیار کر لے گی۔ ہم آنے والے دس سالوں میں معاشرے میں مکمل تبدیلی دیکھیں گے۔

پروگرام کے اختتام پر مسلم کمیونٹی کے 50 سے زائد نوجوانوں کا استقبال کیا گیا جنہوں نے جہیز کے بغیر شادی کی تھی۔ تاریخی اجتماع کے اختتام پر غلام رسول صاحب نے دعا کرائی۔




