دنیا

بنگلہ دیش میں طلباء کے احتجاج نے سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی جس سے 39 افراد ہلاک اور ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی۔

بنگلہ دیش میں طلباء کا احتجاج: بنگلہ دیش میں طلباء کی طرف سے جاری احتجاج کافی شدید اور پرتشدد ہو چکا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے جمعے کے روز اطلاع دی ہے کہ بنگلہ دیش میں طلبہ کا احتجاج ملک کے مہلک ترین دنوں تک پہنچ گیا ہے۔ طلباء نے کئی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی جس کے بعد ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس ہفتے پرتشدد مظاہروں میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے جمعرات کو 32 افراد مارے گئے۔ یہ مظاہرہ ملک کے 64 اضلاع میں پھیل چکا ہے جس کے بعد ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ملک میں انٹرنیٹ سروس تقریباً مکمل طور پر بند ہونے کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے کئی پولیس دفاتر اور سرکاری دفاتر کو آگ لگا دی ہے۔ کئی مقامات پر مسماری اور ‘تباہ کن سرگرمیاں’ اختیار کی گئی ہیں۔ ان میں ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘بنگلہ دیش ٹیلی ویژن’ کا ڈھاکہ ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔ سینکڑوں مشتعل طلباء نے ٹیلی ویژن ہیڈ کوارٹر میں گھس کر عمارت کو آگ لگا دی جس کے بعد سرکاری ٹی وی چینل کو بند کر دیا گیا ہے۔

ڈھاکہ میں 50 پولیس بوتھ جلا دیے گئے۔
دارالحکومت ڈھاکہ کی پولیس فورس کے ترجمان فاروق حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں میں تقریباً 100 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 50 کے قریب پولیس بوتھ جلا دیے گئے۔’ پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر اس طرح کے پرتشدد مظاہرے مزید جاری رہے تو پولیس انتہائی سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

پولیس کی گولی لگنے سے موت
دوسری جانب ہسپتال کے عملے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘اب تک ہونے والی ہلاکتوں میں سے کم از کم دو تہائی پولیس کی فائرنگ سے ہوئی ہیں۔’ انڈیپینڈنٹ ٹیلی ویژن کے مطابق جمعرات کو ملک بھر کے کم از کم 26 اضلاع میں جھڑپیں ہوئیں۔ نیٹ ورک نے رپورٹ کیا کہ پورے دن میں 700 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں 104 پولیس افسران اور 30 ​​صحافی شامل ہیں۔

بنگلہ دیشی طلباء کا مطالبہ کیا ہے؟
دراصل بنگلہ دیش میں جاری احتجاج ریزرویشن کے خلاف ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ملک میں کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے۔ سول سروس کی آدھی سے زیادہ پوسٹیں ریزرو کر دی گئی ہیں، ان میں پاکستان کے خلاف 1971 کی جنگ آزادی کے جنگجوؤں کے بچے بھی شامل ہیں۔ طلباء کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین سے حکومت کے حامی گروپوں کے بچوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت پر الزام عائد کیا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے شیخ حسینہ کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ریاستی اداروں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ اس میں اپوزیشن کارکنوں کے قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت نے ملک بھر میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان چائلڈ برتھ: بچوں کی پیدائش کے حوالے سے یہ مسلم ملک دنیا میں سب سے آگے، آبادی 2050 تک دوگنی ہوجائے گی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button