دنیا

ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی انتخابات سے قبل خفیہ دستاویزات کے مقدمے میں بڑی ریلیف مل گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خفیہ دستاویزات کیس میں عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ جج ایلین کینن نے ٹرمپ پر غیر قانونی طور پر خفیہ دستاویزات رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے فوجداری مقدمے کو خارج کر دیا۔ انتخابات سے عین قبل اسے ٹرمپ کی ایک بڑی قانونی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جج نے کہا کہ ’جیک اسمتھ کو کیس لڑنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اپنے 90 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج نے کہا کہ ’جیک اسمتھ کو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کیس میں تعینات کیا گیا تھا‘۔ تاہم جج نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا ٹرمپ نے خفیہ دستاویزات کو غیر قانونی طور پر رکھا تھا۔

ٹرمپ کے خلاف اور بھی کئی مقدمات

ٹرمپ اس وقت چار فوجداری مقدمات میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان معاملات میں اس کیس کو ان کی سب سے بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ اسے مئی کے مہینے میں ہی نیویارک کے ہش منی ٹرائل میں سزا سنائی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے ان کی سزا پر روک لگا دی تھی۔ اس کے علاوہ ان پر 2020 کے انتخابات میں شکست کو پلٹانے کی سازش کے تحت اپنے حامیوں کو پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس کیس میں ان کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹرمپ پر گولیاں چلائی گئیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ حال ہی میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی ریلی میں ٹرمپ پر جان لیوا حملہ ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ یہ حملہ ان پر اس وقت ہوا جب وہ ایک انتخابی ریلی میں حامیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران شوٹر نے کئی راؤنڈ گولیاں چلائیں۔ تاہم گولی اس کے کان سے لگی۔ اس واقعے میں وہ زخمی ہو گئے۔ تاہم اسی لمحے ان کے شوٹروں نے فائرنگ کرنے والوں کو فوراً ہلاک کر دیا۔

یہ بھی دیکھیں: پی ایم مودی کی مبارکباد پر نیپال کے نئے وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے ایسی بات کہہ دی، چین حیران رہ جائے گا!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button