دنیا

پاکستانی ماہر شاہد جاوید برکی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکا، چین اور روس کے بعد بھارت دنیا کا چوتھا قطب ہے۔

پاک بھارت تعلقات: پاکستانی ماہر اقتصادیات شاہد جاوید نے بھارت کے بارے میں ایسی بڑی بات کہہ دی جس سے پاکستانی حکومت ناراض ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان ترقی کے لحاظ سے تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک کے سابق نائب صدر شاہد کا کہنا ہے کہ اب دنیا میں 4 کھمبے بن چکے ہیں۔ ان میں سے ایک ہندوستان ہے، باقی تین قطبین امریکہ، چین اور روس ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے بارے میں کچھ تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے کہا کہ جب میں ورلڈ بینک میں ہوا کرتا تھا تو میں کثیر قطبیت نامی لفظ کو زیر بحث لایا تھا۔ اکانومسٹ میگزین نے اس کے برعکس لکھا تھا لیکن اس کے بعد بھی لوگوں نے میری طرف توجہ دی۔ آج کل میرا لفظ بہت استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اب دنیا کے چار قطبوں میں سے ایک بن گیا ہے۔

پاکستان کے لیے بری خبر
روس اور بھارت کی دوستی کے حوالے سے جاوید نے کہا کہ 2030 تک بھارت اور روس کے درمیان سالانہ تجارت 100 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے ماسکو میں نئے قونصل خانے کھولے جانے والے ہیں جو پاکستان کے لیے تشویشناک خبر ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت اپنے سفارت خانے کو بلوچستان میں مشکلات پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اگر ایسا کیا گیا تو پاکستان کو فائدہ ہوگا۔
پاکستانی حکومت کو معاشی محاذ پر آئینہ دکھانے کے لیے ماہرین مسلسل اپنی رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی پاکستانی محقق صبور علی سعید جیو نیوز میں ایک مضمون لکھ چکے ہیں۔ اس میں سعید نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کے تئیں اپنی پالیسیوں کو دوبارہ ترجیح دینا ہوگی۔ سعید نے مضمون میں کہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت ہوتی ہے تو یہ 37 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ سال 2017-18 میں دونوں ممالک کے درمیان 2.4 بلین ڈالر کی تجارت ہوئی۔ جب تعلقات خراب ہوئے تو پاکستان نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بند کر دی، لیکن اس سے بھارت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستان کو صرف بھارت کے ساتھ تجارت کا فائدہ ہوگا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button