اسماعیل ھنیہ کی موت: اسماعیل ھنیہ کی موت پر حماس برہم، اسرائیل کو یہ بڑی دھمکی دے دی

اسماعیل ہانیہ کی وفات: حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ ایران میں ایک حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ہانیہ ایرانی صدر مسعود پجشکیان کی حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران پہنچی تھیں۔ تہران میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ تاہم ایرانی میڈیا اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کر رہا ہے۔
دوسری جانب حماس نے بھی اپنی سربراہ ہانیہ کی موت پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حماس سے وابستہ شہاب نیوز آؤٹ لیٹ نے حماس کے عہدیدار موسی ابو مرزوق کے حوالے سے کہا کہ یہ قتل ایک بزدلانہ کارروائی ہے۔ یہی نہیں حماس نے کہا کہ اسماعیل ھنیہ کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔ حماس نے اس حملے کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔
حماس نے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا
ایران کے پاسداران انقلاب نے بدھ کو تہران میں اسماعیل ھنیہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حماس نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔ دراصل گزشتہ سال 7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 1200 لوگ مارے گئے تھے۔ جبکہ 250 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس حملے کے بعد حماس کے سرکردہ رہنما اسرائیل کے نشانے پر ہیں۔
ہانیہ 2019 میں غزہ کی پٹی چھوڑ کر قطر میں مقیم تھی۔ غزہ میں حماس کے سرکردہ رہنما یحییٰ سنوار ہیں جنہوں نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس سے قبل اپریل میں ہانیہ کے خاندان پر اسرائیل نے حملہ کیا تھا۔ اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے تین بیٹے اور چار پوتے مارے گئے۔ حماس نے اس حملے کو دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل اسماعیل ہانیہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں ان کے خاندان کے 60 افراد مارے گئے تھے۔ اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں اب تک فلسطین میں تقریباً 38 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔




