دنیا

چین کا نیٹو ممالک کو واضح پیغام نیٹو سربراہی اجلاس کے درمیان بیلاروس میں شروع ہونے والی فوجی مشقیں

چین کی فوجی مشقیں: اس ہفتے چین بیلاروس کے ساتھ فوجی مشقیں کر رہا ہے جو نیٹو کی مشرقی سرحد پر واقع ہے۔ اسے بیجنگ اور امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چین روس کے اتحادی بیلاروس کی سرزمین پر ایک ایسے وقت میں ‘انسداد دہشت گردی’ مشقیں کر رہا ہے جب واشنگٹن میں نیٹو اتحاد کا سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ نیٹو سربراہی اجلاس میں روس یوکرین جنگ سب سے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس دوران نیٹو ممالک یوکرین کو دفاعی ساز و سامان فراہم کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سربراہی اجلاس کے وقت ایسی فوجی مشقیں کر کے بیجنگ نیٹو اتحاد کو خبردار کر رہا ہے۔ چین اور بیلاروس کے درمیان اس سے قبل بھی فوجی مشقیں ہو چکی ہیں تاہم روس یوکرائن جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلی فوجی مشقیں ہیں۔ درحقیقت یوکرین نیٹو ممالک کا اتحادی ہے، اس لیے یہ فوجی مشق بہت اہم ہو گئی ہے۔

بریسٹ شہر میں فوجی مشقیں
بدھ کو چینی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ فوجی مشق 8 جولائی کو بریسٹ شہر میں شروع ہوئی جو پولینڈ کی سرحد پر واقع ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشق جولائی کے وسط تک جاری رہے گی۔ فی الحال اس مشق میں چینی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں صحیح معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک ‘جنگی تکنیکوں کو بہتر بنانے، فوجوں کے درمیان تعاون اور مواصلات کو گہرا کرنے’ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

چین کا نیٹو کو واضح پیغام
چینی حکام نے زور دیا کہ یہ مشق ‘کسی خاص ملک کے خلاف نہیں ہے۔’ لیکن پولینڈ کی وزارت دفاع نے مشق کے وقت پر تنقید کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشق کی تاریخ اور جگہ کا انتخاب اتفاق سے نہیں کیا گیا بلکہ چین نیٹو کو پیغام دینا چاہتا تھا۔ اسٹیمسن سینٹر کی خارجہ پالیسی اور دفاعی تھنک ٹینک کی کیلی گریکو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘کثیرطرفہ مشقیں اکثر سیاسی اشارے بھیجنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔’

یہ بھی پڑھیں: مالدیپ اور چین تعلقات: معجو چین کے سامنے ’منت سماجت‘ کرنے پر مجبور، مالدیپ کی تصویر نے دنیا کو چونکا دیا

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button