دنیا

پاکستانی محقق صبور علی سعید نے شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت قائم کریں۔

پاک بھارت تعلقات: اب پاکستان اور بھارت کے بگڑتے تعلقات کے حوالے سے پاکستان میں اندرونی انتشار شروع ہو گیا ہے۔ ماہرین بھی پاکستان کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اب شہباز شریف حکومت کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔ پاکستانی محقق صبور علی سعید نے جیو نیوز میں اس حوالے سے ایک مضمون لکھا ہے۔ اس میں سعید نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کے تئیں اپنی پالیسیوں کو دوبارہ ترجیح دینا ہوگی۔ جب بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کیا تو پاکستان نے ہر قسم کے تعلقات توڑنے کی پالیسی پر کام کیا۔ پاکستان کا خیال تھا کہ بھارت کو ایسا دباؤ ڈال کر مجبور کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان کی یہ حکمت عملی کام نہیں آئی پاکستان نے اسے کئی بین الاقوامی فورمز پر بھی اٹھایا لیکن بھارت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ کئی مسلم ممالک نے بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔

کسی نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔
صبور علی نے کہا کہ خلیج کے مسلم ممالک نے بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے چند ہی ہفتے بعد متحدہ عرب امارات نے مودی کو اپنا اعلیٰ ترین شہری اعزاز دیا۔ متحدہ عرب امارات آج ہندوستان میں چوتھا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے۔ سعودی عرب نے ہندوستان میں 100 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ محقق کا کہنا تھا کہ امریکا اور یورپی یونین بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں، وہ بھی پاکستان کے بھارت سے شدید احتجاج پر واضح ہے کہ پاکستان کی بھارت سے تعلقات توڑنے کی پالیسی کام نہیں کر رہی۔ اب پاکستان کو مستقبل کا سوچ کر آگے بڑھنا ہو گا۔ مودی تیسری بار ہندوستان کے وزیر اعظم بنے ہیں۔ ایسے میں شہباز شریف حکومت کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہئیں۔

پاکستان کو تجارت سے بہت فائدہ ہوگا۔
سعید نے اپنے مضمون میں کہا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت ہوتی ہے تو یہ 37 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ سال 2017-18 میں دونوں ممالک کے درمیان 2.4 بلین ڈالر کی تجارت ہوئی۔ جب تعلقات خراب ہوئے تو پاکستان نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بند کر دی، لیکن اس سے بھارت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، پاکستان کو بھارت کے ساتھ تجارت کرنے سے ہی فائدہ ہوگا۔ اس سے بات چیت کا ماحول بھی پیدا ہوگا۔ پاکستان بھارت کے لیے افغانستان، وسطی ایشیا، ایران وغیرہ کے لیے گیٹ وے بن سکتا ہے۔ ایسے میں موجودہ حکومت کو مذاکرات کے دروازے کھول کر اپنی پالیسی بدلنی چاہیے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button