امریکہ جو بائیڈن حکومت نے 4.5 لاکھ بارڈ اُلو کو مارنے کا حکم دیا، پتہ ہے کیوں؟

امریکہ اللو مارنے کا منصوبہ: امریکہ نے تقریباً 5 لاکھ ‘بارڈ’ الّو کو مارنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حال ہی میں کینیا نے اپنے ملک میں ہندوستانی نژاد تقریباً 10 لاکھ کووں کو مارنے کا اعلان کیا تھا۔ اب امریکہ نے اُلو کو ختم کرنے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بارڈر اولز امریکہ کی ‘سپوٹڈ اول’ نسل کے لیے خطرہ بن چکے ہیں جس کی وجہ سے ‘سپوٹڈ اولز’ معدوم ہونے کے دہانے پر ہیں۔ ایسے میں جنگلی حیات کے حکام نے مغربی ساحل کے گھنے جنگلات میں پیشہ ور شوٹرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً 5 لاکھ ‘بارڈ’ الّو کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ‘بارڈ’ الّو امریکہ میں ‘داغ دار’ الّو کی نسل کے لیے خطرہ بن گئے ہیں، جو ان کا قریبی رشتہ دار بھی ہے۔
امریکی محکمہ جنگلی حیات اوریگون، واشنگٹن اور کیلی فورنیا میں کم ہوتی ہوئی داغ دار الّو کی آبادی کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت آئندہ تین دہائیوں میں 4.50 لاکھ اُلووں کو گولی مار دی جائے گی۔ یہ الّو اصل میں مشرقی ریاستہائے متحدہ سے ہیں، لیکن اب انہوں نے ریاستہائے متحدہ کے مغربی ساحل پر حملہ کر دیا ہے۔ روکے ہوئے الّو نے داغدار اللو کے زیادہ تر وسائل پر قبضہ کر لیا ہے اور چھوٹے اُلو ان سے لڑنے کے قابل نہیں ہیں۔ روکے ہوئے الّو کے انڈے بہت بڑے ہوتے ہیں اور یہ چھوٹی جگہوں پر بھی رہ سکتے ہیں۔
سرحدی اُلو چھوٹے اُلووں کے گھونسلے پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
امریکہ میں چھوٹے الّو کی انواع کے تحفظ کے لیے کئی دہائیوں سے کوششیں کی جا رہی ہیں، ایسے جنگلات جہاں چھوٹے الّو رہتے ہیں ان کی حفاظت کی گئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگلات کی حفاظت کے باوجود چھوٹے الّو کی نسل خطرے میں ہے کیونکہ ان کے مسکن روکے ہوئے اُلووں نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب چھوٹے اُلووں کو بچانے کا واحد طریقہ بڑے اُلووں کو مارنا ہے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو مستقبل میں ‘سپوٹڈ اللو’ کی نسلیں معدوم ہو جائیں گی۔
کھانے والے جنگلی حیات کے محافظ بن گئے – ایکشن کمیٹی
اب امریکہ میں کچھ لوگ ایک پرندے کو بچانے کے لیے دوسرے پرندے کو مارنے کے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ابھی کے لیے، جنگلی حیات کے حامیوں اور تحفظ پسندوں نے ہچکچاتے ہوئے عظیم الّو کو مارنے کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بڑے اُلو کو مارنے کے بجائے چھوٹے اُلو کی حفاظت کرنی چاہیے۔ حکومت اس سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے فیصلے کر رہی ہے۔ اینیمل ویلنس ایکشن کمیٹی کے رکن وین پیسلے نے کہا، ‘امریکہ میں جنگلی حیات کے محافظ لوگ اب شکاری بن چکے ہیں۔’ انہوں نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ موسم بہار سے روکے ہوئے اُلو کو مارنا شروع ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کال ریکارڈنگ: پاکستان میں ہر کسی کی فون کالز ریکارڈ کی جا رہی ہیں، حکومت کے بڑے انکشافات کے بعد پورے ملک میں سنسنی پھیل گئی۔




