بنگلہ دیش حکومت کے بحران پر برطانیہ کی خاموشی شیخ حسینہ کی سیاسی پناہ پر برطانیہ نے بھی امن کی اپیل کی۔

بنگلہ دیش کی خبریں: برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بنگلہ دیش کی صورتحال پر ایک سرکاری بیان جاری کیا ہے۔ ڈیوڈ لیمی نے کہا، ‘بنگلہ دیش نے گزشتہ دو ہفتوں میں خوفناک تشدد اور المناک جانی نقصان دیکھا ہے۔ آرمی چیف نے عبوری دور کا اعلان کیا ہے۔
سیکرٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بنگلہ دیش میں جاری بحران کے درمیان امن کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تمام جماعتوں کو موجودہ تشدد کے خاتمے، امن کی بحالی، حالات کو خراب کرنے اور کسی بھی قسم کے جانی نقصان کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
‘لوگوں کو آزادانہ تحقیقات کا حق ہے’
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ بنگلہ دیش کے شہری گزشتہ چند ہفتوں کے واقعات کی اقوام متحدہ کی سربراہی میں مکمل اور آزادانہ تحقیقات کے مستحق ہیں۔ برطانیہ بنگلہ دیش کے پرامن اور جمہوری مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ برطانیہ اور بنگلہ دیش کے لوگوں کے درمیان بہت مضبوط تعلقات ہیں اور ہم دونوں کامن ویلتھ کی اقدار میں مشترک ہیں۔
امریکہ نے کیا کہا؟
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی بنگلہ دیش کی موجودہ صورتحال پر بیان دیا ہے جس کی معلومات امریکی محکمہ خارجہ نے دی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ بنگلہ دیش میں کس طرح مظاہرے ہو رہے ہیں اور اس سب کے درمیان وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
انہوں نے کہا، ‘امریکہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس مشکل وقت میں بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ تمام فریقین سے اپیل ہے کہ تشدد سے گریز کریں۔ بنگلہ دیش میں پچھلے ہفتوں میں بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں اور ہم آنے والے دنوں میں بنگلہ دیش میں امن کی اپیل کرتے ہیں۔
عبوری حکومت کا خیرمقدم کیا۔
امریکہ نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا خیر مقدم کیا ہے۔ میتھیو ملر نے کہا کہ ہم عبوری حکومت کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے امید ظاہر کی کہ بنگلہ دیش کے قوانین کے مطابق کوئی تبدیلی کی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش حکومت کا بحران: خاندان کا اجتماعی قتل، ملک بدری اور نظر بندی، یہ اب تک شیخ حسینہ کی زندگی رہی




