کینیا اگلے چھ ماہ میں 10 لاکھ ہجرت کرنے والے ہندوستانی کووں کو مارے گا وجہ جانئے۔

ہندوستانی نژاد کوا: کینیا کی حکومت نے بڑی تعداد میں ہندوستانی نژاد کووں کو مارنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے سال 2024 کے آخری چھ مہینوں میں 10 لاکھ کووں کو ختم کرنے کا ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ کینیا کے محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ کوا ان کے بنیادی ماحولیاتی نظام کا حصہ نہیں ہے۔ ملک کے محکمہ جنگلی حیات نے ہندوستانی نسل کے کووں کو ‘جارحانہ اجنبی پرندے’ قرار دیا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ کوے کئی دہائیوں سے عوام کے لیے پریشانی پیدا کر رہے ہیں اور مقامی پرندوں کو مار رہے ہیں۔
کینیا کی وائلڈ لائف اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ کوے مشرقی افریقہ کے مقامی نہیں ہیں تاہم ساحلی شہروں ممباسا، مالندی، کلیفی اور واٹامو میں گزشتہ چند سالوں میں ان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کی زیادہ تعداد کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے پیش نظر حکومت نے 10 لاکھ کووں کو ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک میٹنگ میں کیا گیا جس میں ہوٹل انڈسٹری کے نمائندے اور کوے کے کنٹرول میں مہارت رکھنے والے پریکٹیشنرز شامل تھے۔
کووں کی وجہ سے ہوٹل انڈسٹری میں مشکلات
وائلڈ لائف اتھارٹی نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ کوے ساحلی شہروں میں ہوٹل انڈسٹری کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہے ہیں۔ کووں کی وجہ سے سیاح کھلے میں بیٹھ کر کھانے سے لطف اندوز نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایسے میں ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ لوگ بھی کووں سے کافی پریشان ہیں اور ان پر قابو پانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کینیا وائلڈ لائف اتھارٹی نے کہا کہ کووں کو مارنے کا فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔
کووں سے کس کو خطرہ ہے؟
وائلڈ لائف اتھارٹی کا کہنا تھا کہ کووں کی وجہ سے کئی پرندے خطرے میں پڑ گئے ہیں، وہ ایسے پرندوں کا مسلسل شکار کر رہے ہیں۔ کینیا کے پرندوں کے ماہر کولن جیکسن کا کہنا تھا کہ یہ کوے چھوٹے دیسی پرندوں کے گھونسلے تباہ کر دیتے ہیں اور ان کے انڈے اور چوزے کھاتے ہیں جس کی وجہ سے پرندوں کی بہت سی اقسام کم ہو رہی ہیں۔ مقامی پرندوں کی کمی کی وجہ سے ماحولیاتی تحفظ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کوے کا اثر صرف ایسے پرندوں پر ہی نہیں پڑ رہا ہے بلکہ پورا ماحولیاتی نظام اس سے متاثر ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جی 7 سربراہی اجلاس: جی 7 میں چین کی مکروہ حرکتیں بے نقاب، بڑی پابندیاں عائد، بھارت کا دوست بھی حیران




