سعودی عرب کو تیل کے بحران کا سامنا ہے اب اپنا شاہی محل کرائے پر دے گا جانیں کون رہ سکتا ہے۔

سعودی عرب کا شاہی محل: سعودی عرب نے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے نیا منصوبہ بنایا ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سعودی حکومت نے پہلے ویزا قوانین میں نرمی کی۔ اب شاہی محل کو کرائے پر دینے کی تیاریاں جاری ہیں۔ دراصل سعودی عرب کی جی ڈی پی کا انحصار خام تیل کی سپلائی پر ہے۔ مستقبل میں تیل کی مانگ کم ہونے والی ہے۔ ان امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے سعودی عرب سیاحت اور تفریح کو فروغ دے رہا ہے۔ اب سیاحت کو بڑھانے کے مقصد سے سعودی عرب اپنے سابق حکمران سعود بل عبدالعزیز کا محل بھی کرائے پر دے گا۔ سیاح اس محل میں راتیں گزار سکیں گے۔ 3 لاکھ 65 ہزار مربع فٹ کا یہ بڑا محل جدید سعودی عرب کے دوسرے حکمران سعود بن عبدالعزیز کا گھر ہوا کرتا تھا۔
ہوٹل میں سپا سینٹر کی سہولت دستیاب ہوگی۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اس محل کو ایک نئی شکل دی جا رہی ہے، جس کے لیے بوتیک گروپ کے نام سے ایک بلڈر کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کئی دہائیوں تک یہ محل حکمران کی رہائش گاہ رہا اور پھر اسے حکومت کا ہیڈ کوارٹر بنا دیا گیا۔ اب اسے ہوٹل کے طور پر تیار کیا جائے گا۔ اس میں کل 70 کمرے ہیں، جنہیں سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف لوگوں کو رہنے کا موقع ملے گا بلکہ وہ سعودی عرب کی شاہی زندگی کا بھی مشاہدہ کر سکیں گے۔ اس ہوٹل میں سعودی عرب کے شاہی خاندان کے پسندیدہ پکوان پیش کیے جائیں گے۔ کھانے کے دوران بھی لوگوں کو سعودی عرب کے شاہی طرز زندگی کا تجربہ کرایا جائے گا۔ اس محل میں سپا سینٹرز بھی کھولے جائیں گے جہاں روایتی سعودی علاج دستیاب ہوں گے۔
رہائش زیادہ لاگت آئے گی
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریڈ پیلس کے نام سے مشہور یہ محل 1940 میں اس وقت کے ولی عہد کے لیے بنایا گیا تھا۔ اب اسے ایک انتہائی لگژری ہوٹل کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ اس محل میں لوگ سعودی عرب کی شاہی زندگی کا تجربہ کر سکیں گے۔ بوتیک گروپ کے سی ای او مارک ڈی کوسینس نے کہا کہ یہ شاہی زندگی گزارنے کا تجربہ ہو گا سعودی عرب میں یہ پہلا تجربہ ہے۔ تاہم اس میں رہنے کی قیمت کافی زیادہ ہوگی۔



