راہول گاندھی کا اعتراف: کانگریس حکومت میں ذات پات مردم شماری نہ کرانا میری غلطی تھی، اب میں اسے درست کروں گا

نئی دہلی (ای ایم ایس) – کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے ذات پات مردم شماری کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کانگریس حکومت کے دوران ذات پر مبنی مردم شماری نہ کرانا ایک بڑی سیاسی اور سماجی غلطی تھی، اور اب وہ اس کو درست کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
دہلی میں کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ “بھـاگیداری نیائے مہا سـمـیـلـن” سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا، “مجھے سیاست میں آئے ہوئے 21 سال ہو گئے ہیں۔ جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں اور خود احتسابی کرتا ہوں تو مجھے کچھ بڑی باتیں نظر آتی ہیں۔ میں نے زمین حصول قانون بنایا، منریگا لے کر آیا، اور نیامگری کی لڑائی لڑی۔ یہ سب میں نے صحیح کیے۔ آدیواسیوں، دلتوں اور اقلیتوں کے لیے میری کارکردگی اچھی رہی۔ خواتین کے ایشوز پر بھی مجھے اچھے نمبر ملنے چاہئیں۔”
“مجھے او بی سی کی تکلیفیں سمجھ نہیں آئیں”
راہول گاندھی نے اعتراف کیا کہ ان کی ایک بڑی کمی یہ رہی کہ وہ او بی سی طبقے کی صحیح نمائندگی اور دفاع نہیں کر پائے۔ انہوں نے کہا:
“او بی سی طبقے کے مسائل اُس وقت مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آئے تھے۔ دلتوں اور آدیواسیوں کے مسائل میرے لیے واضح تھے، لیکن او بی سی کی مشکلات چھپی رہتی ہیں۔ اگر مجھے تب ان کے مسائل کا ذرا بھی اندازہ ہوتا، تو میں اسی وقت ذات پر مبنی مردم شماری کروا دیتا۔ یہ کانگریس کی نہیں بلکہ میری ذاتی غلطی تھی، اور میں اب اسے سدھارنے جا رہا ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی تقریباً 90 فیصد آبادی دلت، پسماندہ، آدیواسی اور اقلیتی طبقات پر مشتمل ہے، لیکن جب مرکزی بجٹ بنتا ہے اور “حلوا” بانٹا جاتا ہے، تو ان 90 فیصد کا وہاں کوئی نمائندہ نہیں ہوتا۔
“حلوا بنانے والے آپ ہیں، لیکن کھانے والے وہ۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ وہ نہ کھائیں، لیکن آپ کو بھی تو حصہ ملے!”
ایس آئی آر کے معاملے پر ملّی کارجـن کھڑگے کا حملہ
کانفرنس میں کانگریس صدر مَلّی کارجـن کھڑگے نے بھی خطاب کیا اور ایس آئی آر (SIR – Special Intensive Revision) پر شدید اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا:
“آج ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے نیا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے کہ ایس آئی آر صرف بہار ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں لاگو کیا جائے گا۔ یہ لوگ غریبوں، او بی سی، ایس سی/ایس ٹی اور خواتین کو ووٹنگ کے حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا:
“آر ایس ایس اور بی جے پی کبھی بھی ان طبقات کو ووٹنگ کا پورا حق دینے کے حق میں نہیں تھیں۔ ہمیں ووٹ دینے کا حق بابا صاحب امبیڈکر اور جواہر لال نہرو کی بدولت ملا۔ اب بی جے پی ووٹر لسٹ کو بدل کر لوگوں کا حق چھیننے کی سازش کر رہی ہے۔”
(رپورٹ: ونود اپادھیائے / 25 جولائی 2025)
Ask ChatGPT