پاکستانی باپ کی نابالغ بیٹی کی 72 سالہ خیبر پولیس دلہن سے شادی

پاکستان میں نابالغ کی شادی: دنیا بھر سے شادی سے متعلق کئی عجیب و غریب واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک کیس پاکستان کے خیبر پختونخوا سے بھی سامنے آیا ہے۔ یہاں باپ نے اپنی 12 سالہ بیٹی کی شادی 72 سالہ شخص سے کروانے کی کوشش کی۔ اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے اس شادی کو روک دیا۔ پولیس نے اس معاملے میں دولہے کو گرفتار کر لیا ہے۔
نابالغ لڑکی کے والد کا نام عالم سید ہے۔ اس معاملے کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے والد سید نے اپنی بیٹی کو پانچ لاکھ میں بیچنے کا سودا کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ شادی میں اتنے پیسے نہ ملے تو شادی نہیں کریں گے۔ پولیس نے مداخلت کرکے اسے شادی سے پہلے ہی روک دیا۔ اس کے علاوہ پولیس نے دولہا حبیب خان اور نکاح خواں (جو نکاح کرواتے ہیں) کو گرفتار کر لیا ہے۔
لڑکی کا باپ فرار
لڑکی کا والد موقع سے فرار ہو گیا ہے۔ لڑکی کے والد، دولہا اور نکاح خواں کے خلاف میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون کے نفاذ کے بعد بھی ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کے راجن پور اور ٹھٹھہ میں ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے روک دیا۔
حال ہی میں ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان میں بھی ایسا ہی ایک کیس سامنے آ چکا ہے۔ پنجاب کے شہر راجن پور میں پولیس نے نابالغ کی شادی روک دی جہاں 11 سالہ لڑکی کی شادی 40 سالہ شخص سے ہو رہی تھی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں 6 مئی کو سوات میں پولیس نے نابالغ لڑکی سے شادی کرنے پر 70 سالہ شخص کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ناکہ بندی، سرچ آپریشن، دہشت گردوں کے خاکے جاری… بھارت جموں میں دہشت گردی کا بدلہ لینے کے لیے تیار!



