ایران کے صدارتی انتخابات: مسعود پیزشکیان نے ایران میں صدارتی انتخاب جیت لیا، بنیاد پرست رہنما سعید جلیلی کو 28 لاکھ ووٹوں سے شکست دی۔

ایران کے نئے صدر مسعود پیزشکیان: ایران میں، اصلاح پسند امیدوار مسعود پیزشکیان نے ہفتہ (6 جولائی) کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے بنیاد پرست سعید جلیلی کو بڑے فرق سے شکست دی ہے۔ Pejeshkian ملک کے سابق وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی شبیہ ایک ایسے رہنما کے طور پر ہے جو اصلاحات پر یقین رکھتا ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما بھی ہیں جو مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایران میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ابراہیم رئیسی کی ہلاکت کے بعد صدارتی انتخابات کرائے گئے۔
مسعود پیزشکیان نے انتخابات کے وقت وعدہ کیا تھا کہ وہ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کریں گے۔ اس کے علاوہ ملک میں اسکارف لازمی پہننے کے قانون میں نرمی کی جائے گی۔ ایران میں حجاب اور اسکارف کے حوالے سے کئی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ پیزشکیان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران شیعہ تھیوکریسی میں کسی تبدیلی کا وعدہ نہیں کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کے تمام معاملات میں حتمی ثالث تصور کیے جائیں گے۔
مسعود پیزشکیان 28 لاکھ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایران کے انتخابی حکام کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کے بعد پیجشکیان کو 16.3 ملین ووٹ ملے ہیں جب کہ ان کے قریبی حریف اور بنیاد پرست رہنما سعید جلیلی کو 13.5 ملین ووٹ ملے ہیں۔ پجشکیان نے جلیلی کو 28 لاکھ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ Pejeshkian سابق وزیر صحت رہ چکے ہیں اور پیشے کے لحاظ سے ہارٹ سرجن بھی ہیں۔ ان کا شمار ملک کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو ایک عرصے سے سیاسی حلقوں میں موجود ہیں۔
صدر بننے کے بعد مسعود پیزشکیان کو کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟
اگرچہ مسعود پیزشکیان ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں لیکن صدارت پر قبضہ کرنے کے بعد ان کے لیے چیلنجز کم نہیں ہوں گے۔ ان کا سب سے بڑا چیلنج مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا ہو گا۔ جب سے ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، مغربی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ ایران پر کئی قسم کی پابندیاں بھی لگائی گئی ہیں جس کی وجہ سے اس کی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسے مغربی ممالک سمجھتے ہیں کہ ایران یورینیم افزودہ کر رہا ہے تاکہ جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ اب، جیسے ہی وہ صدر بنیں گے، پیجیشکیان کو سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا کہ ایران کے نہ صرف مغربی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں بلکہ اس پر عائد پابندیاں بھی ختم ہوں۔ یہاں یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے Pejeshkian کا موقف کیا ہو گا۔
ایران اور اسرائیل کا تنازع کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ غزہ میں جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے اسرائیل پر بھی حملہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی اور حزب اللہ کے جنگجو مسلسل اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حزب اللہ لبنان سے آئے روز اسرائیل پر راکٹ برساتی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ Pejeshkian کو یہاں حوثی باغیوں اور حزب اللہ کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے صدارتی انتخابات 2024: ایرانی انتخابات میں سپریم لیڈر کا کیا کردار ہے، ایران کے صدر کے اختیارات کیا ہیں؟




