دنیا

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی موت کی وجہ آئی فون کی نگرانی پیگاسس کے ذریعے کی گئی جانیے ماہرین کی رائے

اسماعیل ہنیہ کی وفات: حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ھنیہ کو بدھ کے روز ایران کے دارالحکومت تہران میں قتل کر دیا گیا۔ ایران نے اس قتل کا ذمہ دار اسرائیل پر عائد کیا ہے اور بدلہ لینے کا عزم بھی کیا ہے۔ ایران نے کہا کہ ایک میزائل ہانیہ کے کمرے میں اس وقت گرا جب وہ سو رہی تھی جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔ یہ میزائل حملہ قریب سے کیا گیا۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ہانیہ کی موت ان کے کمرے میں رکھے گئے بم کی وجہ سے ہوئی۔ یہ بم دو ماہ قبل ہانیہ کے کمرے میں پہنچایا گیا تھا۔ ہانیہ کے کمرے میں موجود ہونے کی تصدیق کے بعد بم دھماکہ کیا گیا۔ ان دونوں دعووں سے یہ واضح ہے کہ جس نے بھی یہ حملہ کیا اسے ہانیہ کی صحیح جگہ کا علم تھا۔ اب ماہرین کو شک ہے کہ ہانیہ کے فون سے اسرائیل کو مکمل معلومات مل رہی تھیں۔

حماس کی سربراہ ہانیہ ایران کے نئے صدر مسعود پجشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے منگل کو تہران گئی تھیں۔ اس دوران وہ ایرانی فوج کے ایک انتہائی محفوظ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہانیہ کہاں ٹھہرے گی اس بارے میں کسی کو کوئی اطلاع نہیں تھی۔ اس کے باوجود حملہ آور کے پاس ہانیہ کے بارے میں مکمل معلومات تھیں۔

فارس نیوز نے اس گیسٹ ہاؤس کی تصویر شیئر کی ہے جہاں ہانیہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس عمارت میں ہانیہ رہ رہی تھی اس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی کو نقصان پہنچا ہے۔ مقصد اتنا درست تھا کہ میزائل سیدھا ہانیہ کے کمرے میں جا گرا۔

کیا ہانیہ کے فون میں پیگاسس تھا؟
دفاعی ماہر قمر آغا کا کہنا ہے کہ اسرائیل اسماعیل ہانیہ کو کافی عرصے سے ٹریک کر رہا تھا۔ آغا کے مطابق ہانیہ کے پاس آئی فون تھا جس کے ذریعے اسرائیل ٹریک کر رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ آیا اس فون میں پیگاسس موجود تھا یا اسے دینے سے پہلے اس میں پیگاسس انسٹال تھا۔ لیکن اس میں سی آئی اے بھی ملوث تھی، کیونکہ یہ امریکی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔

واٹس ایپ کے ذریعے نگرانی کا شبہ
کچھ لوگوں نے واٹس ایپ کے ذریعے جاسوسی کی بات بھی کی ہے۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے رہنما کے فون پر واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے اسپائی ویئر نصب کر دیا ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیل کو ہانیہ کے بارے میں درست معلومات مل رہی تھیں۔ آئی ڈی ایف نے ہانیہ پر حملہ کرنے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا۔ فی الحال ایسے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ ایران میں فیس بک اور واٹس ایپ جیسی میٹا ایپس پر پابندی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ کے دہانے پر! حزب اللہ نے اسرائیل پر کئی راکٹ فائر کیے، آئرن ڈوم نے پھر اپنی طاقت دکھائی

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button