اسرائیل غزہ جنگ امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس نے قسم کھائی کہ وہ اسرائیل غزہ جنگ پر خاموش نہیں رہیں گی بنجمن نیتن یاہو دیکھتے رہے

اسرائیل غزہ جنگ: حماس کے ساتھ جنگ کے درمیان اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو جمعرات کو امریکہ پہنچ گئے۔ انہوں نے یہاں صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کی۔ اس دوران کملا ہیرس نے جنگ ختم کرنے پر اصرار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غزہ کے مصائب پر خاموش نہیں رہیں گی، اس کے لیے انہوں نے حلف اٹھایا ہے۔ دونوں امریکی رہنماؤں نے جنگ کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب جنگ بندی کے معاہدے کا وقت آگیا ہے۔ تاہم کملا ہیرس نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اسرائیل کو بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
نیتن یاہو 4 سال بعد امریکہ پہنچ گئے۔
اسرائیل کی غزہ کے ساتھ جنگ گزشتہ 9 ماہ سے جاری ہے اس سے قبل امریکا نے بھی جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ اب بھی وہی بات دہرائی جا رہی ہے۔ جمعرات کو جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچے تو وہاں بھی غزہ میں جاری جنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 2020 کے بعد چار سالوں میں نیتن یاہو کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس دوران کملا ہیرس نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی حفاظت کا حق ہے۔ وہ کس طرح کرتا ہے اس سے فرق پڑتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ وہ خاموش نہیں رہیں گی۔ ہم مردہ بچوں اور اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہے لوگوں کی تصاویر کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ہم مصائب کے سامنے بے حس نہیں ہو سکتے، میں خاموش نہیں رہوں گا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ غزہ میں 9 ماہ سے جنگ جاری ہے، کئی ممالک اسے ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن کوئی حل نہیں نکل رہا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے غزہ میں 39 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ نیتن یاہو اور بائیڈن کے درمیان کچھ ایسی خبریں سامنے آئی تھیں جن سے لگتا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آرہا ہے لیکن اس ملاقات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے متوازن موقف اپنایا ہے۔ کملا ہیرس نے کہا تھا کہ اس جنگ کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔ تمام مغویوں کو رہا کیا جائے اور فلسطینیوں کے مصائب کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: میانمار تنازع: میانمار میں فوج کو شکست، باغیوں کا ایک اور شہر پر قبضہ، 26 لاکھ افراد بے گھر




