امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ ایف بی آئی جو بائیڈن کا ردعمل

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ: ایف بی آئی امریکہ کے شہر پنسلوانیا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ادھر ایف بی آئی نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ فائرنگ کے وقت مشتبہ بندوق بردار سے تقریباً 400 سے 500 فٹ (120 سے 150 میٹر) کے فاصلے پر تھے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ بندوق بردار نے ریلی کے باہر بلند مقام سے کئی گولیاں چلائیں۔ تفتیشی ایجنسی نے سی این این کو بتایا کہ شوٹر ریلی کی جگہ کے بالکل باہر ایک عمارت کی چھت پر تھا۔ تاہم فائرنگ کے بعد سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے بندوق بردار کو ہلاک کر دیا۔
‘پہلے لوگوں نے سوچا کہ پٹاخہ جل رہا ہے’
فائرنگ کے دوران ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خون میں لت پت ٹرمپ کو سکیورٹی اہلکار لے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر جب فائرنگ ہوئی تو کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ پٹاخوں کی آواز ہے۔ فائرنگ کا اس وقت پتہ چلا جب کچھ لوگوں کو گولیوں سے زخمی ہوتے دیکھا گیا۔ سیکرٹ سروس کے مطابق واقعے میں کم از کم ایک تماشائی ہلاک اور دو افراد شدید زخمی ہوئے جب کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بندوق بردار کو بھی ہلاک کردیا۔
ٹرمپ خطرے سے باہر، دائیں کان کے اوپری حصے میں گولی لگی
ٹرمپ کے ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ اب ٹھیک ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ مجھے میرے دائیں کان کے اوپری حصے میں گولی ماری گئی۔ دوسری جانب اس حملے کے بعد دنیا بھر کے رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
جو بائیڈن نے کیا کہا؟
اس حملے کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شکر گزار ہیں کہ ٹرمپ محفوظ ہیں۔ انہوں نے فائرنگ کی مذمت کی اور ملک سے متحد ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ امریکہ میں اس قسم کے تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں
پول 2024 کا نتیجہ: ‘یہ دل بہلانے کا…’، ضمنی انتخابات میں ہندوستانی اتحاد کی جیت پر بی جے پی نے کیا کہا؟



