دنیا

اسرائیل حماس جنگ 10 اہم لمحات غزہ فلسطین حماس کے حملے سے IDF جوابی کارروائی تک

اسرائیل حماس جنگ: اسرائیل اور حماس کے درمیان طویل عرصے سے جنگ جاری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے مسلسل فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس کے زیر اقتدار علاقے میں وزارت صحت کے مطابق فضائی اور زمینی حملوں میں تقریباً 39,480 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تاہم یہاں کتنے عام شہری اور عسکریت پسند ہلاک ہوئے اس بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

فلسطینی گروپ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے جنگ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ مسلسل کئی علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل نے بھی غزہ کی پٹی میں حماس کے حملے کا جواب تباہ کن فوجی آپریشن سے دیا۔ کئی ممالک نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کی وکالت بھی کی ہے۔

آئیے آپ کو اسرائیل اور حماس جنگ کے 10 اہم لمحات بتاتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

حماس نے حملہ کیا۔

7 اکتوبر 2023 کی صبح حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیل میں گھس کر اس کے کئی شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بھی حملہ کیا گیا۔ حماس کے جنگجو 251 یرغمالیوں کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے۔ اطلاعات کے مطابق 251 یرغمالیوں میں سے 39 ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

شمالی غزہ سے اخراج

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے حلف کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کردی۔ اسی سلسلے میں اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر لیا۔ اسرائیل نے شمالی غزہ کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ باہر نکلیں اور جنوبی غزہ کی طرف بڑھیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس اپیل کے بعد غزہ کے تقریباً نوے فیصد لوگ بے گھر ہو گئے۔

اسرائیل نے زمینی حملہ کیا۔

اسرائیل نے 27 اکتوبر 2023 کو غزہ پر ایک بڑا زمینی حملہ کیا۔ 15 نومبر کو اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز الشفا ہسپتال پر حملہ کیا۔ یہ حملہ کافی لرزہ خیز تھا جس کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل نے کہا کہ یہاں حماس کا کمانڈ سینٹر ہے۔ تاہم حماس نے اسرائیلی دعوے کو یکسر مسترد کر دیا۔

یرغمالیوں کا تبادلہ

اسرائیل اور حماس نے 24 نومبر 2023 کو ایک ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا اور اس پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔ جنگ بندی کے ساتھ ہی دونوں طرف سے یرغمالیوں کو بھی رہا کر دیا گیا۔ جہاں اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 240 فلسطینی یرغمالیوں کو رہا کیا وہیں 80 اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کر دیا گیا۔ جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے ایک بار پھر جنوبی غزہ کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

نسل کشی روکنے کے لیے اقدام اٹھایا

جنگ بندی کے بعد صورت حال بہت پیچیدہ ہو گئی اور انسانی صورت حال بھی انتہائی سنگین ہو گئی۔ ادھر عالمی عدالت نے اسرائیل کو حکم جاری کردیا۔ اس حکم میں کہا گیا کہ جنگ فوری طور پر روک دی جائے۔ جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نسل کشی کی تمام سرگرمیاں جلد از جلد بند کرے۔ اہم بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ اس معاملے کو عالمی عدالت میں لے کر آیا۔

کھانے پینے کی اشیاء لے جانے والے قافلے پر حملہ

29 فروری 2024 کو اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر شمالی غزہ کے رہائشیوں کو نشانہ بنایا اور ان پر فائرنگ کی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ جن لوگوں پر فائرنگ کی گئی وہ فوڈ ایڈ ٹرکوں سے سامان لینے کے لیے لائن میں کھڑے تھے۔ نشانہ بنانے کے بعد اسرائیل نے کہا کہ یہ لوگ خطرہ بن رہے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ 120 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے جواب میں کہا کہ زیادہ تر متاثرین ٹرکوں کے نیچے کچلے جانے کے بعد ہلاک ہوئے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ امریکہ مارچ کے آغاز سے غزہ کو امداد فراہم کر رہا تھا۔

امریکی امدادی کارکن مر گئے۔

امریکی خیراتی ادارے ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکن یکم اپریل 2024 کو اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس حملے کو افسوسناک غلطی قرار دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو غزہ کے جنوبی شہر رفح میں فوج بھیجنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں 24 لاکھ لوگوں نے پناہ لی ہے۔

ایران نے حملہ کیا۔

ایران نے 13 اپریل 2024 کو اسرائیل پر ڈرون اور میزائلوں سے حملہ کیا۔ اس حملے کے بعد صورتحال کافی پیچیدہ ہو گئی۔ ایران نے اس حملے کو دمشق قونصلیٹ پر ہونے والے مہلک حملے کا بدلہ قرار دیا۔ ایران نے اسرائیل پر کئی اور الزامات لگائے۔ اس حملے کے بعد ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان دشمنی مزید بڑھ گئی۔

اسرائیل نے جنوبی غزہ میں آپریشن شروع کر دیا۔

اسرائیل نے 7 مئی 2024 کو غزہ کی پٹی کے فلسطینی شہر رفح پر حملے شروع کیے تھے۔ غزہ کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں تقریباً 45 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے پیچھے اسرائیل کا استدلال تھا کہ اس کی کوشش اس جگہ چھپے حماس کے دو سینئر کارکنوں کو نشانہ بنانے کی تھی۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے بے گھر افراد کو پناہ دینے والے پانچ اسکولوں پر بھی حملہ کیا۔ حماس اور غزہ کے حکام نے بتایا کہ اسکولوں پر اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

حماس کا کہنا ہے کہ 13 جولائی 2024 کو خان ​​یونس کے قریب ہونے والے حملے میں 92 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 22 جولائی کو ہونے والے حملے میں مزید 70 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ دنیا کے کئی ممالک نے اسکولوں پر اسرائیلی حملے پر تنقید کرتے ہوئے اس جنگ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق رفح میں 14 لاکھ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی دارالحکومت پر حملہ

یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے غزہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور 19 جولائی 2024 کو جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر ڈرون حملہ۔ اس حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حملے کے بعد اسرائیل نے بھی جوابی کارروائی کی اور حوثیوں کے زیر کنٹرول بندرگاہ حدیدہ پر بمباری کی۔

اسرائیل کی جوابی کارروائی میں چھ افراد مارے گئے۔ اس دوران اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازعہ بھی شدت اختیار کر گیا۔ لبنان کی اسلامی تنظیم حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی۔ 27 جولائی 2024 کو اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر راکٹ فائر کیے گئے اور 12 نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسرائیل نے اس حملے کا ذمہ دار حزب اللہ کو ٹھہرایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حماس کے فوجی سربراہ ہلاک: فہد، ہانیہ کے بعد اب محمد دیف… حماس کے خلاف اسرائیل کی تیز کارروائی جاری

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button