شیخ حسینہ بنگلہ دیش واپس آئیں گی عوامی لیگ کے رہنماؤں نے حسینہ کو واپس بلانے کا عزم کیا۔ شیخ حسینہ کی واپسی: لندن میں پناہ لینے کی خبروں کے درمیان اس شخص کا بڑا دعویٰ

شیخ حسینہ کی واپسی: شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور بنگلہ دیش چھوڑنے کے صرف دو دن بعد ہی ان کی حمایت میں آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ عوامی لیگ اور اس سے وابستہ تنظیموں نے شیخ حسینہ کو عزت کے ساتھ وطن واپس لانے کا عزم کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں کئی مہینوں کے احتجاج کے بعد 5 اگست کو وزیر اعظم شیخ حسینہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر ہندوستان میں محفوظ مقام پر چلی گئیں۔ اب بنگلہ دیش کے گوپال گنج ضلع سے شیخ حسینہ کے لیے آواز اٹھائی گئی ہے۔ عوامی لیگ کے رہنماؤں نے کہا کہ شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش واپس بلانے تک وہ آرام نہیں کریں گے۔
عوامی لیگ کے کارکن بدھ کو گوپال گنج ضلع کے تنگی پارہ میں بنگلہ دیش کے بانی مجیب الرحمان کے مقبرے پر جمع ہوئے اور شیخ حسینہ کو یاد کرنے کا عزم کیا۔ اس تقریب کا اہتمام عوامی لیگ کے ضلعی صدر محبوب علی خان نے کیا تھا۔ اس موقع پر عوامی لیگ کے کارکنان بڑی تعداد میں جمع تھے۔ ضلعی جنرل سیکرٹری جی ایم صاحب الدین اعظم نے کہا کہ ان کی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ شیخ حسینہ کو ان کی بہن ریحانہ کے ساتھ بنگلہ دیش نہیں بلاتے۔ اس دوران شیخ مجیب الرحمن کی قبر پر پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں شیخ حسینہ کی واپسی کے آثار
عوامی لیگ کے کارکنوں نے ایک ایسے وقت میں حلف اٹھایا ہے جب شیخ حسینہ کے بیٹے سجیب واجد نے بنگلہ دیش کی سیاست میں واپسی کا عندیہ دیا ہے۔ ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے، سجیب واجد نے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا خاندان بنگلہ دیش کی سیاست میں واپس نہیں آئے گا، لیکن ان کے کارکنوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں وہ اب خاموش نہیں رہنے والا ہے۔ سجیب واجد نے پارٹی رہنماؤں سے مضبوط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی لیگ ختم نہیں ہوئی۔ یہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے، اسے ختم کرنا اتنا آسان نہیں۔
شیخ حسینہ کا بیٹا دہشت گردی سے پاک بنگلہ دیش چاہتا ہے۔
سجیب واجد نے کہا کہ ‘بنگلہ دیش عوامی لیگ کے بغیر جمہوری ملک نہیں بن سکتا۔ واجد نے پارٹی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ شیخ حسینہ مری نہیں ہیں۔ ہم بنگ بندھو کا خاندان ہیں اور کہیں نہیں گئے۔ ملک کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو بھی ملک کا انچارج ہے، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم بھی دہشت گردی سے پاک بنگلہ دیش چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہم کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سجیب واجد کا بیان: ‘شیخ حسینہ ابھی مری نہیں’، ان کے بیان نے بنگلہ دیش کی سیاست میں تہلکہ مچا دیا



