بھارت نے گزشتہ ایک سال میں 8 نئے ایٹمی بم بنائے پاکستان ایٹمی بموں کی تعداد کے لحاظ سے بھارت سے پیچھے

انڈیا نیوکلیئر پاور: اس وقت پوری دنیا میں ایٹم بم بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ بھارت نے اس سیریز میں پاکستان کو ایک بار پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دنیا بھر میں جوہری بموں پر نظر رکھنے والے ادارے SIPRI نے دنیا بھر کے جوہری بموں کا تازہ ترین ڈیٹا پیش کیا ہے جس کے مطابق بھارت کے پاس اب کل 172 ایٹمی بم ہیں۔ اب تک پاکستان کے پاس صرف 170 بم ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں بھارت نے 8 نئے ایٹمی بم بنائے ہیں جب کہ پاکستان نے کوئی نیا ایٹمی بم نہیں بنایا۔
SIPRI نے کہا کہ دنیا کے تمام 9 جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک نے اپنے ہتھیاروں کو جدید بنا لیا ہے۔ ان ممالک نے نئے جوہری ہتھیار بھی تعینات کیے ہیں۔ بھارت کا سب سے بڑا دشمن چین گزشتہ ایک سال میں 90 نئے ایٹمی بم بنا چکا ہے، چین کے ایٹمی بم اب 410 سے بڑھ کر 500 ہو گئے ہیں۔ SIPRI کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ، روس، فرانس، برطانیہ، چین، پاکستان، بھارت، شمالی کوریا اور اسرائیل نے گزشتہ سال کے دوران جوہری ہتھیاروں کو تیزی سے جدید بنایا ہے۔
دنیا کے 2100 ایٹمی بم ہائی الرٹ پر
سال 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں 12 ہزار 121 ایٹمی بم موجود ہیں جن میں سے 9 ہزار 585 ایٹمی بم فوجی ذخیرے میں رکھے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ لڑاکا طیاروں اور میزائلوں میں 3904 ایٹمی بم تعینات کیے گئے ہیں۔ دنیا بھر میں 2100 ایٹمی بموں کو میزائلوں میں ہائی الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ روس اور امریکہ نے سب سے زیادہ جوہری بموں کو الرٹ پر رکھا ہے جب کہ اب چین نے بھی 24 ایٹمی بموں کو الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ چین نے یہ اس وقت کیا ہے جب وہ تائیوان کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ تناؤ کا شکار ہے۔
روس اور امریکہ کے پاس نوے فیصد ایٹمی بم ہیں۔
تازہ ترین اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں جوہری بموں کی تعداد میں کمی آئی ہے کیونکہ پرانے بموں کو تباہ کرکے نئے بم تیار کیے جارہے ہیں۔ SIPRI نے جوہری بموں کو الرٹ موڈ پر رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ رجحان آنے والے سالوں میں جاری رہ سکتا ہے۔ ایس آئی پی آر آئی نے کہا کہ ہندوستان، پاکستان اور شمالی کوریا ایک ہی میزائل پر متعدد ایٹمی بم نصب کرنے کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ، روس، برطانیہ اور چین پہلے ہی یہ کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں لڑاکا طیاروں اور میزائلوں میں تعینات جوہری بموں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس وقت دنیا کے کل ایٹمی بموں کا 90 فیصد امریکہ اور روس کے پاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل حماس جنگ: حماس کے خلاف جنگ میں نیا موڑ، اب نیتن یاہو اپنے ہی ملک کی فوج سے ناراض، حکومت اور فوج میں کشیدگی بڑھ گئی



