دنیا

مسلم اسکالر شیخ یاسر الحبیب سکاٹش ٹورسو جزیرے کو اپنی اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

شیخ یاسر الحبیب: بنیاد پرست مسلمان عالم شیخ یاسر الحبیب اسکاٹ لینڈ میں تورسا جزیرہ خریدنے کی تیاری کر رہے ہیں جو 85 سال سے ویران پڑا ہے۔ مولوی اس جزیرے پر سکول، ہسپتال اور مسجد بنائیں گے۔ اسے خریدنے کے لیے بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ دی میل کی رپورٹ کے مطابق وہ اسے ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں، جہاں شرعی قانون پر عمل کیا جائے گا۔ 1.6 کلومیٹر طویل یہ جزیرہ 85 سال سے ویران پڑا ہے۔ پچھلے سال ہی تقریباً 16.16 کروڑ روپے میں 15 لاکھ پاؤنڈ فروخت کرنے کا اشتہار جاری کیا گیا تھا۔ یہ ہمسایہ جزائر لوئنگ اور سیل سے کشتی کے ذریعے سمندر کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔

32 کروڑ روپے کے عطیات بھی اکٹھے کئے
رپورٹ کے مطابق مولوی شیخ فوجی طرز کے تربیتی کیمپ چلاتے ہیں۔ اس کے لیے اس نے دنیا بھر کے مسلمانوں سے 32 کروڑ روپے سے زیادہ جمع کیے ہیں۔ الحبیب نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر آپ امام کے پرچم تلے آزاد رہنا چاہتے ہیں، جہاں آپ کو لگتا ہے کہ یہاں سب کچھ شیعہ وطن ہے، تو آپ کو اس منصوبے کی حمایت کرنی چاہیے۔ اس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں کو ویزا دے کر ان کے نئے جزیرے پر رہنے کی اجازت دی جائے گی۔

مولوی کویت سے فرار ہو کر برطانیہ میں آباد ہو گئے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مولوی شیخ یاسر الحبیب 20 سال قبل کویت سے فرار ہو کر برطانیہ میں آباد ہوئے تھے۔ بکنگھم شائر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔ وہاں مولوی کو فلمر کے ملا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شیخ یاسر پر شیعہ اور سنی کے درمیان فرقہ واریت پھیلانے کا الزام ہے۔ مولوی امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ایک جزیرہ بھی خریدنا چاہتا ہے لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اس کے پاس 8 ملین ڈالر نہیں ہیں۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق مالک نے کہا ہے کہ وہ اپنا جزیرہ یاسر کو فروخت نہیں کرے گا تاہم شیخ یاسر کو امید ہے کہ جزیرے کا مالک اب بھی اسے فروخت کرنا چاہتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button