بنگلہ دیش ریزرویشن پروٹیکشن اپوزیشن کا وزیراعظم شیخ حسینہ کو ہٹانے کا مطالبہ بھارت پر بھی اثر پڑے گا۔

بنگلہ دیش ریزرویشن احتجاج : بنگلہ دیش میں سپریم کورٹ نے ریزرویشن کا معاملہ ختم کر دیا ہے لیکن وہاں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ اب اس معاملے سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپوزیشن جماعتیں شیخ حسینہ کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے بھی جماعت اسلامی کی مدد سے حکومت کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ ای ٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ لیڈر ملکی فوج پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے لیے بنگلہ دیشی فوج کے جونیئر افسران کے نام پر فرضی خطوط وائرل کیے جا رہے ہیں۔ ای ٹی نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ملک کی فوج وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حمایت کر رہی ہے۔
بھارت کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔
اسی دوران بنگلہ دیش میں تشدد کے بعد 110 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اس میں 4 ہزار سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ تاہم اتوار کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سرکاری ملازمتوں میں 93 فیصد آسامیاں میرٹ کی بنیاد پر پر کی جائیں گی۔ آزادی پسندوں کی اولاد کے لیے صرف 5 فیصد نشستیں رکھی جائیں گی۔ باقی 2 فیصد نشستیں نسلی اقلیتوں، خواجہ سراؤں اور معذوروں کو دی جائیں گی۔ ہندوستانی حکومت بھی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ بنگلہ دیش میں بدامنی مغربی بنگال اور شمال مشرق کو متاثر کرتی ہے۔ بنگلہ دیشی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر صورتحال کو سمجھداری سے نہ سنبھالا گیا تو حسینہ مخالف تحریک بھارت مخالف تحریک میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اگر بنگلہ دیش میں بنیاد پرست طاقتیں مضبوط ہوتی ہیں تو یہ ہندوستان کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
پورا خلیج بنگال متاثر ہوگا۔
بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر پربیر ڈے کا کہنا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش کا سب سے بڑا کاروباری شراکت دار ہے۔ دونوں ممالک BIMSTEC، سارک جیسی علاقائی تنظیموں کے ذریعے شرکت کرتے ہیں۔ ہندوستان کی کئی شمال مشرقی ریاستیں بنگلہ دیش پر منحصر ہیں اور اسی طرح بنگلہ دیش بھی ہندوستان پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مستحکم بنگلہ دیش نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے خلیج بنگال کے خطے کے لیے سیکورٹی خطرہ بن سکتا ہے اس لیے یہ ہندوستان کے لیے بہت ضروری ہے اور حکومت بھی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔



