دنیا

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارتی امیدوار پر قاتلانہ حملے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل جانیئے وجہ

ڈونلڈ ٹرمپ پر حملہ: امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک ریلی کے دوران جان لیوا حملہ ہوا، جس میں حملہ آور نے ان پر فائرنگ کی اور گولی ان کے کان سے لگی۔ جوابی کارروائی میں حملہ آور فوراً مارا گیا۔ اس سب کے درمیان ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ خون میں لت پت ہیں اور مٹھیاں بھینچی ہوئی ہیں۔ پیچھے امریکی پرچم دکھائی دے رہا ہے۔

دراصل یہ تصویر اس لیے بھی زیر بحث ہے کیونکہ حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ڈرے نہیں تھے۔ تصویر کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ گرج رہے ہوں کہ وہ ایسے حملوں سے نہ ٹوٹیں گے اور نہ ہی ہار مانیں گے۔ اس کے بعد وہ دوگنی طاقت کے ساتھ واپس آئے گا۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ تصویر کسی کی جان خطرے میں ڈال کر لی گئی تھی۔ اسے اپنے کیمرے میں قید کرنے والے فوٹوگرافر کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے یہ تصویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی غنڈہ تصویر لینے والا فوٹوگرافر کون ہے؟

اس سینئر فوٹوگرافر کا نام Ivan Vucci ہے اور وہ دی ایسوسی ایٹ پریس کے چیف فوٹوگرافر ہیں۔ انہوں نے پلٹزر ایوارڈ کے ساتھ ساتھ نیشنل ایڈورڈ آر۔ مورو ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ اس تصویر کے بارے میں ڈیلی بیسٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس نے اس دل دہلا دینے والے واقعے کی ایک بہترین تصویر اپنے کیمرے میں کیسے قید کی؟

بٹلر میں ٹرمپ پر ہونے والے جان لیوا حملے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی ریلیوں کو کور کیا تھا اور یہ ریلی بھی ایسی ہی ہونے والی تھی لیکن جہاں سے وہ کھڑے تھے، ان کے بائیں کندھے کے اوپر سے گولی چلنے کی آواز آئی سنا تھا. وہاں سے میں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اپنا کیمرہ موڑ دیا۔

جب گولی لگی تو کیا آپ نے بھاگنے کی کوشش نہیں کی؟

ووکی نے کہا، “میری حفاظت یا آگے کیا ہوگا، مجھے کیا کرنا ہے، مجھے کہاں رہنا ہے؟ یہ وہ باتیں تھیں جو میرے ذہن میں چل رہی تھیں لیکن اس سے بڑی بات یہ تھی کہ میں نے اس واقعے کو اپنے کیمرے میں قید کرنا تھا جو کہ تاریخی ہے۔ میرے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ مجھے اپنا کام کرنا ہے۔ ووکی کی لی گئی اس تصویر نے پورے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ‘خدا نے بچایا…’، مہلک حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا ردعمل

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button