روس نے یوکرین پر کروز میزائل داغے، نصف درجن سے زائد زخمی


روس نے ایک بار پھر یوکرین پر بڑا حملہ کیا ہے۔ سینکڑوں کروز میزائلوں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے حملے میں نصف درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے یوکرین میں کئی مقامات پر نقصانات کی اطلاعات ہیں۔ ادھر یوکرین کے آرمی چیف نے کہا ہے کہ روسی فوج خارکیف کے قریب فوجیوں کی تعداد بڑھا رہی ہے اور شہر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ خارکیف میں تازہ ترین حملے میں سات افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
یوکرین نے روسی حملے سے ہونے والے نقصان کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ لیکن بتایا جاتا ہے کہ روسی فوج کی طرف سے چھوڑے گئے تمام 32 شاہد ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے آسمان پر ہی تباہ کر دیا۔
ادھر روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا بھی بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک نے یوکرین کو اپنے ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی تو مستقبل میں ان کے ساتھ بہت برے واقعات پیش آئیں گے۔ پیوٹن کی جانب سے یہ انتباہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ہتھیاروں کی اجازت کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ یورپی ممالک یوکرین کی مدد کریں کہ وہ اڈے تباہ کر دیں جہاں سے روس یوکرین پر حملہ کر رہا ہے۔ تب سے پیوٹن کا غصہ بھڑک اٹھا ہے۔ ادھر یوکرین کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ اسود میں روسی بحریہ کی دو گشتی کشتیاں ڈرون حملوں میں تباہ کر دی ہیں۔ یوکرین کی جنگ میں مدد کرنے والے امریکی فوجی ادارے نیٹو نے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو یوکرین کے لیے ہر سال 44 بلین ڈالر کی فوجی امداد ضروری ہو جائے گی۔ امریکہ کے محدود مقصد کے تحت امریکی ہتھیاروں کو روس کے اندر حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ امریکی حکام نے یہ اطلاع دی۔
[ad_2]
Read in Hindi




