کراچی میں محرم الحرام پر دہشت گردانہ حملہ، حکومت پاکستان نے الرٹ جاری کر دیا، فوج کو تعینات کر دیا گیا۔

کراچی دہشت گردانہ حملہ: کراچی، پاکستان میں انسداد تجاوزات پولیس کے لیے حملے کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ محرم کے روز کراچی میں دہشت گرد حملہ ہو سکتا ہے۔ کراچی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس طارق اسلام نے محرم کے دن کسی بھی پولیس اہلکار کو سرکاری ڈیوٹی پر اکیلے جانے سے منع کر دیا ہے۔
معلومات جاری کرتے ہوئے طارق اسلام نے کہا ہے کہ محرم کے دوران کراچی میں سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈیوٹی کے دوران پولیس وین پہننے اور کام ختم ہونے کے بعد وردی اور جوتے پہننے سے گریز کریں۔
ان علاقوں میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
اس نوٹیفکیشن سے قبل گزشتہ پیر کو حکومت نے محرم کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ملک بھر میں مسلح افواج کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔ حکومت نے سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں حکام کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج تعینات کی تھی۔ حکومت پاکستان نے ملک میں امن کو یقینی بنانے کے لیے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔
پاکستانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ فوج کی تعیناتی زمینی صورتحال کی بنیاد پر ہوگی اور تعیناتی کی جگہوں کا فیصلہ کرنے کا حق ریاستوں کو ہوگا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے قبل پاکستان کی حکومت پنجاب نے وزارت داخلہ سے محرم کے دوران 6 سے 11 جولائی تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو معطل کرنے کا کہا تھا۔
502 مقامات حساس ہیں۔
پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں سیکیورٹی کے حوالے سے بہت سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 502 ایسے مقامات ہیں جو حساس ہیں اور ان مقامات پر فوج اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ تہوار شیعہ مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے میں ملک میں سنی اور شیعہ برادریوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد بار بار ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہاراشٹر میں ‘اربن نکسلائٹس’ کے خلاف MCOCA سے بھی سخت قانون بنے گا، مدد کرنے والوں پر بھی لٹکے گی تلوار




