افغانستان بھارت میں الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کے لیے لیتھیم فراہم کرے گا چین کو جھٹکا لگے گا۔

بھارت چین تعلقات: چین کو کنٹرول کرنے کے لیے بھارت افغانستان کے ساتھ مل کر نیا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک آپس میں تعلقات بھی مضبوط کر رہے ہیں۔ بھارت نے اس کے لیے اپنے سفارت خانے بھی کھول دیے ہیں۔ ساتھ ہی بھارت کی جانب سے افغانستان کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد بھی جاری کی جا رہی ہے۔ بدلے میں افغانستان ہندوستان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیتھیم فراہم کرے گا۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے لیتھیم کی بہت ضرورت ہوتی ہے، فی الحال اس پر چین کا کنٹرول ہے۔
بیٹریاں اور سیمی کنڈکٹر لیتھیم سے بنائے جاتے ہیں۔ افغانستان میں بہت زیادہ لیتھیم ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں 1 ٹریلین ڈالر مالیت کا لیتھیم موجود ہے۔ اگر بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو طالبان حکومت اس کے لیے بہت مدد کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین بھی افغانستان میں اس حوالے سے بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔
اس وقت چین کا غلبہ ہے۔
چین اس وقت لیتھیم کے حوالے سے دنیا پر غلبہ رکھتا ہے۔ اس نے چلی سے آسٹریلیا تک لیتھیم کی کانوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارت میں بھی چین سپلائی کرتا ہے اور بدلے میں براہ راست قیمت مانگتا ہے۔ اگر بھارت کی شرط افغانستان پر لگائی جاتی ہے تو یہ بہت اچھی خبر ہوگی۔ ایک اندازے کے مطابق 2030 تک ہندوستان میں لیتھیم کی طلب 56 ہزار میٹرک ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی۔ اتنی سپلائی سے ہی ہندوستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی سپلائی ممکن ہو سکے گی۔
ان چیزوں میں لیتھیم کا استعمال کیا جاتا ہے۔
لیتھیم موبائل، لیپ ٹاپ، الیکٹرک گاڑیاں اور دیگر چارج ایبل بیٹریاں بنانے میں استعمال ہوتا ہے، اسی لیے آج پوری دنیا میں لیتھیم کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ بیٹریوں کے علاوہ لیتھیم کو سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانکس، ٹیلی کمیونیکیشن اور مختلف صنعتی آلات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہائی کمیشن: پاکستانی سفارت خانے میں بھارتی خاتون کے ساتھ گھناؤنا فعل، ملزم ملک سے فرار، ایف آئی آر درج




