تازہ ترین

درگاہ میں منعقدہ اسلامی خواتین کانفرنس میں خواتین نے حلف اٹھایا۔

صرف بچے کے کیریئر کے بارے میں نہ سوچیں، بچے کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچیں۔

… ہم اپنے بچوں پر ایک معمولی چھالے پر صدمے سے جاگتے ہیں۔ لیکن اگر دین سے دور ہو کر، قرآن اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو کر، ہمارے بچے غلط راستے، بے حیائی اور بے حیائی کی طرف، ظلم اور ناانصافی کی طرف جا چکے ہیں۔ پھر انہیں جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ ہم یہ کیسے برداشت کر پائیں گے؟

… اس لیے اپنے بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھائیں، لیکن ان کے رویے کی بھی فکر کریں۔ بچوں کو انگلش سکھائیں لیکن پہلے قرآن پڑھنا سکھائیں۔ بچوں کو کمپیوٹر کی کلاسوں میں بھیجیں بلکہ اسلامی تعلیم بھی دیں۔ بچہ کیسا نظر آتا ہے اس کی فکر کریں لیکن پہلے اس بات کی فکر کریں کہ بچہ اچھا ہے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کل ماں کی گود میں آج ترقی کرتا ہے۔ ہمارا معاشرہ کیسا ہوگا، ہمارا ملک کیسا ہوگا، یہ ماں کے ہاتھ میں ہے۔ آج اگر کسی پر سب سے بڑی ذمہ داری ہے تو وہ ماں ہے۔ ماؤں سے درخواست ہے کہ وہ دین پڑھیں، دین سیکھیں اور اپنے بچوں کو دین سکھائیں۔

یہ سماج اور ملک کے لیے مسلم خواتین کا سب سے بڑا تعاون ہوگا۔ یہ آپ کی تقدیر اور آپ کے بچوں کی تقدیر کو تشکیل دے گا۔ معاشرہ کامیاب ہو گا، پورا ملک آگے بڑھے گا۔

تمام مکتب اکٹھے ہو گئے…

آج کے حالات میں مسلم خواتین کی ذمہ داریوں کے موضوع پر روزہ کانفرنس کا اختتام درسگاہ اسلامک اسکول میں ہوا۔ چلا گیا۔ جہاں تمام مکاتب فکر کی خواتین اسلامی اسکالرز نے جبل پور اور ملک کے موجودہ حالات کی روشنی میں مسلم خواتین کی ذمہ داری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہاں اسلامی اسکالرز محترمہ نازیہ بانو صاحبہ، معروف عالمہ محترمہ فوزیہ عرفات صاحبہ اہل سنت والجماعت اور تبلیغی جماعت کی محترمہ عائشہ بانو صاحبہ، عائشہ بانو نے اپنے خیالات پیش کئے۔ اس دوران خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اسلام قبول کریں…

ہماری دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے میں مضمر ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہمارے رول ماڈل ہوں۔ ان کی طرح ہمیں بھی مرتے دم تک ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے۔ معاشرے میں بے حیائی اور بے حیائی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں اس سے خود کو بچانا ہے اور اپنے بچوں کو بھی بچانا ہے۔‘‘

سوشل میڈیا کے عذاب سے بچیں…

پردہ صرف یہ نہیں کہ ہم کسی کے سامنے نہیں آتے، یا ہمارا چہرہ نظر نہیں آتا۔ اگر ہم سوشل میڈیا پر کسی سے بات کرتے ہیں تو یہ اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کہ سامنے والے سے بات کرنا۔ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہماری زندگی اور ہمارے پورے خاندان کا سکون خراب کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے خطرات سے بچیں، سوشل میڈیا کو اسلامی اصولوں کے مطابق استعمال کریں۔

[ad_2]

Read in Hindi

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button