دنیا

پاکستان میں تشدد پاکستان خیبرپختونخوا میں زمین کے ایک ٹکڑے پر دو قبائلی برادریوں میں تصادم، 49 افراد ہلاک، جانئے کیا ہے معاملہ

پاکستان میں تشدد: پاکستان اس وقت فسادات کی آگ میں جل رہا ہے۔ دو قبائلی برادریاں زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے لیے لڑ رہی ہیں۔ پاکستان کے خیبرپختونخوا کے علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 49 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 200 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت اس قدر تشویشناک ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ اس ہنگامے میں شارٹ رینج کے میزائل، مارٹر، راکٹ حتیٰ کہ خودکار بندوقوں کا بھی استعمال ہو رہا ہے۔ مقامی پولیس نے بتایا کہ پانچ روز قبل زمین کے تنازع پر دو قبائل کے درمیان تصادم ہوا تھا۔ یہ ہنگامہ پیواڑ، تنگی، بالش خیل، کھر کلے، مقبل، کنج علی زئی، پارا چمکنی اور کرمان سمیت کئی علاقوں تک پھیل گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں گروپ ایک دوسرے کے خلاف مارٹر گولوں اور راکٹ لانچروں سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کر رہے تھے۔ کرم ڈسٹرکٹ ہسپتال کے سی ایم ایس ڈاکٹر میر حسن جان نے بی بی سی کو بتایا کہ 24 جولائی کو شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے اب تک 32 لاشیں اور 200 سے زائد زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے 32 کا علاج جاری ہے۔

پاکستان میں یہ تشدد کیوں ہوا؟
پاکستان میں اس فساد کی وجہ زمین کا ایک ٹکڑا بتایا جا رہا ہے۔ پچھلے سال جولائی میں بھی اسی زمین کے ٹکڑے کو لے کر تنازعہ ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے کرم میں فرقہ وارانہ تصادم ہوا جس میں نصف درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اب پاکستان کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں دو قبائلی گروپوں کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ تشدد میں 49 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ضلع میں کئی دیگر مقامات پر وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

تنازعہ برسوں پرانا ہے۔
امن کمیٹی کے رکن ملک محمود علی جان کے مطابق 30 ایکڑ اراضی کا یہ سال پرانا تنازعہ گلاب ملی خیل اور مڈگی کلے قبائل کے درمیان ہے۔ گلاب ملی گیم کا تعلق شیعہ برادری سے ہے، جب کہ مدگی کلے کا کھیل سنیوں کا ہے۔ ان کے بقول اس تنازعے کے حوالے سے کئی مسلح تصادم بھی ہو چکے ہیں، جرگے بھی ہوئے لیکن یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔

اس وقت تمام اسکول اور کالج بند ہیں۔
مسلسل فائرنگ کے پیش نظر تمام تعلیمی ادارے اور بازاروں کو فی الوقت بند کر دیا گیا ہے جب کہ دن کے وقت اہم سڑکوں پر ٹریفک بھی بند ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پولیس اور سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button